کوئٹہ ، ڈیورنڈ لائن معائدے سے غافل حکمران طافغان مہاجرین کے انخلا کا حربہ استعمال کر رہے ہیں، افغان قومی موومنٹ

کوئٹہ (آن لائن)افغان قومی موومنٹ کی پریس ریلیز میں ڈیورنڈ لائن معائدے سے غافل حکمران کرپٹ سیاستدانوں کی دوبارہ انٹری سے توجہ ہٹانے کیلئے افغان مہاجرین کے انخلا کا حربہ استعمال کر رہے ہیں سابق مسلم لیگی حکومت کی بی ٹیم نگران سیٹ کو پشتونو و افغانو پر عرصہ حیات تنگ کرنے کا ٹاسک دیکر سیلکٹ کیا گیا ہے اے کیو ایم نگران حکومت کی ناقص خارجہ پالیسی کی وجہ سے بے گناہ افغانوں پر ظلم وزیادتی جبر و بربریت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے آمدورفت کیلئے پاسپورٹ کا اجرا ناقابل قبول ہے اے کیو ایم ایک بارپھر مطالبہ کرتی ہے کہ ائے روز بے گناہ پشتونوں کی قتل عام کے ذمہ داروں کے خلاف عالمی قوانین کے تحت کاروائی کی جائیں ائے روز ملک کے مختلف شہروں میں چادر و چار دیواری کی تقدس کی پامالی سے پشتون احساس محرومی میں بتدریج اضافہ ھو رہا ہے ڈیورنڈ لائن پر امدو رفت تجارتی سامان کی امپورٹ ایکسپورٹ خانہ بدوشوں کے انے جانے پر پابندی اس نام نہاد ڈیونڈ لائین معائدے کی کھلی خلاف ورزی ہے دونوں اطراف بے گناہ پشتونوں و افغانوں کا خون بہہ رہا ہے بد قصتی سے ڈیورنڈ لائین پر دونوں ملکوں کےغیر ذمہ دار سیکیورٹی گارڈز غریب و مجبور پشتون افغان بھائیوں کے ساتھ غیر انسانی قابل عتراض طریقے استعمال کرتے ہیں جسکی جتنی بھی مذمت کی جاے کم ہیں بیان تجارت اور عوامی امدورفت پر ناروا سخت پالیسی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ھوے کہا ہےکہ ڈیورنڈ لائن پر سخت تجارتی پالیسی یہاں کے عوام کی معاشی قتل کے مترادف اقدام ہے۔ ازلی دشمن بھارت کے ساتھ وھاگہ اور کھرتارپور بارڈر پر سب کچھ جائز لیکن پاک افغان بارڈر پر تجارت بھی ناجائز کی پالیسی سمجھ سے بالاتر ہےکہ ڈیورنڈ لائن پر دونوں اطراف کے رہائیش پزیر پشتون افغان قوم کی امدو رفت اور تجارتی سامان کی امپورٹ اور ایکسپورٹ کیلئے سخت اور عوام دشمن پالیسی سے ملکی معاشی بدحالی میں اضافہ ھو گا صوبے کے اسی فیصد عوام کا ذریعہ معاش ڈیورنڈ لائین اور پاک ایران تجارتی کاروبار پر منحصر ہے لیکن ایک طویل عرصے سے ناقص خارجہ پالیسی کی بنیاد پر ائے روز تجارتی سرگرمیاں معطل رہتی ہیں جسکی وجہ سے عوام کو سخت ازیت کا سامنا ہے تجارتی سامان کی امدورفت اور عورتوں بچوں اور بیمار افراد کیلئے نرم پالیسی نہ اپنائی گئ تو غریب عوام جو پہلے سے سرآپا احتجاج ہیں کے ساتھ مل کر سخت احتجاجی راستہ اپنائیں گے تجارت کی بندش سے صوبے کے لاکھوں غریب و متوسط طبقات جو مختلف قسم کے امپورٹ اکسپورٹ کے کاروبار سے وابسطہ ہیں نان شبینہ کے محتاج ھو چکے ہیں کاروبار بند ھونےکی وجہ سے غریب عوام تنگدستی کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں چڑھ کر رہزنی ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم جیسے ناجائز طریقے سے اپنے گھر کی کفالت کرنے پر مجبور ھوجاتے ہیں۔ بارڈر پر تجارتی سامان کی بندش محکوم اقوام کو معاشی طور پر کمزور کرنے کی سازش قرار دیتے ھوے ناقص خارجہ پالیسی اور ہمسایہ ممالک کا ایک دوسرے پر الزامات اور بہتان حالات کو مزید گھمبیر بنا دیگی جسکا ناجاہز فائدہ ان تینوں ممالک کے دشمنوں کو مل رہاہے اور سب سے زیادہ نقصان ان بارڈرزکے آر پار رہنے والے اقوام کو بھگتنا پڑے گی۔بارڈرز کی بندش اور ائے روز کشیدگی سے دشمن اپنے مزموم مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ھوں گے جس سے برادر ممالک کو ناقابل تلافی مالی نقصان کا سامنا ھو گا انھوں نے کہا کہ برادر ممالک کو ایک دوسرے کی خود مختیاری اور استحکام کو ملحوظ خاطر رکھتے ھوے احترام کرنا ھو گادیرپا دو طرفہ تعلقات قاہم کرنے کیلئے تینوں ملکوں کو ایک دوسرے میں مداخلت کرنے کے بجاے ایک اچھے ہمساے کے حق کو ادا کرنا ھو گا بارڈر پر سفارتی اور دو طرفہ تعلقات بحال کر کے دشمن کے ناپاک اعزاہم خاک میں ملانے کیلئے بارڈر کو تجارت اور امد و رفت کیلئے جلد سے جلد کھولا جائے تاکہ بارڈر سے متصل دونوں اطراف پر عوام سکھ کی زندگی گزار سکے بیان میں ملکی سرحدات پر دیرپا آمن کی کوششوں پر زور دیتے ھوے کہا ہے کہ یہ ایک مصدقہ حقیقت ہے کہ ہمسایے کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا بلکہ عدم مداخلت اور بھائی چارگی سے انہیں اپنایا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں