پاکستان میں برسوں سے مقیم افغان باشندوں کو بیدخل کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، عبدالرحیم زیارتوال

پشین (این این آئی) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے کہا ہے کہ افغان کڈوال عوام کےخلاف ناروا کریک ڈاﺅن جس میں گھروں کے اندر گھسنے ، چادر وچار دیواری پائمال کرنے ، غیر انسانی برخود کا نوٹس لینا تمام دنیا کے جمہوریت پسند عوام ، وطن دوست ملکوں کی ذمہ داری ہے ، 45سالوں سے مسلسل غیر ملکی مداخلتوں کے نتیجے میں برباد کھنڈرات ملک کے باسیوں کو بغیر کسی پلان راتوں رات نکالنا تمام معیارات اور حقدار کی پائمالی کے سوا کچھ نہیں ۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ افغان کڈوال عوام کو بین الاقوامی پلان اور اقوام متحدہ کے توسط سے نکالنے کے کام کی نگرانی ہو اور فوری طور پر چھاپوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور ساتھ ہی دونوں ملکوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ افہام وتفہیم سے مسئلے کا پر امن حل نکالنے اور افغان کڈوال عوام دونوں ملکوں کے پلان اور منصوبے کے تحت اپنے گھروں کو جاسکیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے ضلع پشین کے ضلع کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس کی صدارت ضلع سیکرٹری عمر خان ترین نے کی ۔اجلاس میں گزشتہ تنظیمی کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی جس میں تمام تحصیلوں کی رپورٹ اور ان کی تنظیمی وسیاسی سرگرمیوں پر اعتماد کا اظہار کیا گیا اور مزید تنظیم کی فعالیتوں کو تیز کرنے اورپشتونخواملی عوامی پارٹی کے سیاسی پروگرام کو عوام اور وطن کے چپے چپے تک پہنچانے کی ہدایات جاری کی گئیں ۔ اس موقع پر ضلع کمیٹی کے اراکین نے مختلف نویت کے سیاسی سوالات رکھے جن کے جوابات پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدؒالرحیم زیارتوال نے دیئے ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زندہ قومیں اپنے شہدا اور محسنین کو یاد کرتی ہیں، 7اکتوبر 1983کے شہدائے جمہوریت اور 11اکتوبر 1991کے شہدا وطن کی یاد میں منعقدہ اجتماعات میں کارکن بڑی تعداد میں شرکت کو یقینی بنائیں ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ ڈیجیٹل فراڈ مردم شماری جھوٹ اور جانبداری کی مردم شماری جسے پارٹی پہلے ہی مسترد کرچکی ہے اور اب اس مردم شماری کی بنیاد پر اور غیر مساویانہ آبادی پر حلقوں کی تشکیل الیکشن کمیشن کے پلان پر سوالیہ نشان بن چکا ہے ۔ الیکشن کمیشن ایک آزاد خودمختار ادارہ ہے ، حقائق اور آبادیوں کے معیار کے برخلاف حلقہ بندیوں کی تجویز مسترد ہوچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں آئے روز اضافہ ، سخت ترین مہنگائی ، بدترین بیروزگاری نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے ، اچھے بلے خاندان نان شبینہ کے محتاج بنتے جارہے ہیں اور خود 9کروڑ سے زیادہ عوام خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں ، غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں جس طرح اضافہ ہورہا ہے اس نے پورے ملک کو سخت ترین تشویش میں مبتلا کردیا ہے اورنہایت ودُکھ اور افسوس ہے کہ اس تشویشناک صورتحال کے ازالے کیلئے کوئی باقاعدہ پلان اور منصوبہ نہیں ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں