بی این پی عوامی ایک سیاسی وجمہوری وترقی پسند پارٹی ہے،اسد بلوچ
پنجگور( این این آئی) میونسپل کمیٹی تسپ میں بی این پی عوامی کے زیر اہتمام گرینڈ شمولیتی جلسہ چیرمین یونین کونسل کلگ ناصر علی اور شیخ محمد اسلم کی قیادت میں سینکڑوں افراد نے بلوچستان عوامی پارٹی نیشنل پارٹی جے یو آئی اور دیگر جماعتوں سے مستعفی ہوکر میر اسداللہ بلوچ کی قیادت میں بی این پی عوامی میں شمولیت اختیار کرلی شمولیتی جلسہ سے بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی صدر و سابق صوبائی وزیر میر اسداللہ بلوچ مرکزی ڈپٹی سکریٹری نوراحمد بلوچ ڈپٹی آرگنائزر جلیل احمد سیلانی مرکزی کمیٹی کے رکن حاجی محمد اکبر بلوچ مئیر میونسپل کارپوریشن شکیل احمد قمبرانی چیرمین یونین کونسل کلگ ناصر علی بلوچ نے شمولیتی جلسہ سے خطاب کیا میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ بی این پی عوامی ایک سیاسی وجمہوری وترقی پسند پارٹی ہے جسکی سیاست عام لوگوں کی خوشحالی کے لیے ہے سیاست میں سزا وجزا کا آئیڈولوجی ہونا لازمی ہے ہم عوام کا وقار بلند کرنا چاہتے ہیں حوالداروں والی سیاست کی ہے اور نہ اس طرح کی سوچ کے قائل ہیں یہ ان لوگوں کو مبارک ہو جنکااس طرح کی سیاست سے نسبت رہا ہے انہوں نے کہا کہ بی این پی عوامی ایک عوامی سوچ رکھتا ہے اور سیاست میں عوام کا ترجمان بن کر انکی فلاح وبہبود کے لیے کوشاں ہے انہوں نے کہا کہ جو ادارے ہم نے بنائے ہیں وہ عوام کے امنگوں کی نہ صرف ترجمانی کرتے ہیں بلکہ ان اداروں سے 4 ہزار لوگوں کے لیے ملازمتوں کے مواقعے بھی موجود ہیں مخالفین کی سیاست پیٹ کی خاطر ہے انکے مختلف ادوار کو ملا کر دیکھیں پنجگور کی ترقی کے لیے انکا کردار کئیں نظر نہیں آتا ہے اور ہم نے پانچ سالوں کے دوران تسپ کے لیے 250 کروڑ روپے کے ترقیاتی کام کروائے ہیں اور ان پانچ سالوں کے دوران پنجگور کے 750 نوجوانوں کو نوکریاں بھی دی ہیں انہوں نے کہا کہ تسپ کے لوگ باوقار اور ہمارے لیے قابل احترام ہیں تسپ کل بھی بی این پی عوامی کاسیاسی قلعہ تھا اور آج بھی ایک مظبوط سیاسی گڑھ ہے تسپ ایگریکلچرل کالج سے سینکڑوں بچے اور بچیاں زیر تعلیم ہیں بی این پی عوامی نے جو ترقیاتی کیئے ہیں وہ جگہ جگہ موجود ہیں نیشنل پارٹی اپنے دور کے کارنامے دکھائے کہ اس نے اپنے مختلف ادوار میں کتنے تعلیمی ادارے اور ہیلتھ سینٹرز بنائے نیشنل پارٹی نے اپنے پانچ سالہ دور میں پنجگور کو تاریکیوں میں دھکیلا ہر طرف آہ وزاری تھا لوگ گھروں میں محفوظ نہیں تھے روز لوگوں کے گھروں چھاپے پڑتے تھے بی این پی عوامی نے آتے ہی اس جمود کو توڑدیا آج پنجگور تاریکیوں سے نکل کر روشنیوں کا شہر بن چکا ہے تسپ سمیت شہر کے کونے کونے میں علم کے چراغ روشن کردیئے ہیں نیشنل پارٹی اقتدار کا بھوکا ہے ہم ایسے اقتدار کی طرف دیکھتے بھی نہیں جو عوامی مفادات کے خلاف زاتی اور گروہی مقاصد کے لیے ہو شارٹ کٹ میں اقتدار میں آنے والے کیسے عوام کے مفادات کا سوچیں گے نیشنل پارٹی کے دور میں پنجگور کا ادھا حصہ آواران میں جاکر شامل کیا گیا آج ہمارے یہ علاقے ترقیاتی عمل میں پھیچے رہ گئے کوچہ جات میں پسماندہ مذید بڑھا میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے حلقوں کی بنیاد پر عوام میں تفریق کیا بی این پی عوامی واحد جماعت ہے جو حلقوں کی سیاست نہیں کرتی بلکہ پورے پنجگور کو ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے آج جن لوگوں نے پنجگور کی ایک سیٹ کو ضائع کرادیا وہ خود پنجگور کی وراثت کے دعویدار سمجھنے لگے ہیں نیشنل پارٹی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ پنجگور سے الیکشن لڑے انہوں نے کہا کہ پنجگور میں ترقیاتی عمل کا تسلسل جاری رکھنے کے لیے عوام بی این پی عوامی کو ہی ووٹ دینگے جلسوں میں عوام کی بڑی تعداد میں شمولیتوں سے اب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ وہ شعوری بنیادوں پر ترقی کی سوچ کے ساتھ کھڑے ہیں پنجگور کا نام ہم سب نے ملکر روشن کرنا ہے اور ہم نے اپنے مختلف ادوار میں 5000 ہزار سے زائد نوکریاں دی ہیں اور بی این پی عوامی کے ترقیاتی کام خود اس بات کی گواہی دینگے کہ عوام کی خوشحالی کے لیے اگر کسی جماعت نے کام کیا ہے وہ بی این پی عوامی ہے انہوں نے کہا کہ پنجگور سے دوبارہ جہازوں کی سروس بحال کراوں گا انہوں نے کہا کہ ہم حق لینا جانتے ہیں کسی کو اب یہ اجازت نہیں دینگے کہ وہ ہمارے حقوق غضب کریں انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی والوں نے ہمیشہ محدود اور تنگ نظرانہ سوچ کا مظاہرہ کیا ہے یہ ہمیشہ ترقیاتی کاموں کے آگے رکاوٹ بنے ہیں الیکشن کمیشن کو بھی نیشنل پارٹی کے سابق منسٹر رحمت صالح بلوچ نے لیٹر لکھا ہے کہ زراعت میں بھرتیوں کو منسوخ کیا جائے یہ عوام دشمنی اور منافقت نہیں تو اور کیا ہے بی این پی عوامی نے ہمیشہ سیاست کو عبادت کا درجہ دے کر خدمت کو فوقیت دی ہے ملک کے معاشی بحران سے بلوچ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے بلوچستان میں افغان مہاجرین کو لاکر اسلحہ اور منشیات کلچر کو فروغ دیاگیا افغانیوں کی وجہ سے ہمارے تعلیمی ادارے بھی منشیات کی تباہ کاریوں کی محفوظ نہیں رہے منشیات بلوچ کی پیدوار نہیں ہے یہ ایک پالیسی کے تحت بلوچ پر تھونپا گیا انہوں نے کہا کہ بلوچ کا بچہ پڑھنا چاہتا ہے اور اسکی خواہش ہے کالج اوردیگر بڑے تعلیمی ادارے ان کے لیے بنیں میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ ہم نے اس وقت قربانیاں دیں جب سیٹ اور ایم پی اے کا شپ کا وجود ہی نہیں تھا بلوچ دستار کے لیے جدوجہد کیا اور جسم پر گولیاں بھی کھائیں جس سوچ کی آبیاری ہم کرچکے ہیں اس سوچ کو کوئی بھی ختم نہیں کرسکتا اب اندھیروں سے نکل کر روشنیوں کی طرف محو سفر ہیں نیشنل پارٹی جس مینڈیٹ کے تحت 2013 میں وزیر اعلی کی کرسی پر برجمان رہا یہ سب کو پتہ ہے نیشنل پارٹی قومی سوچ کا دشمن اور اسلام آباد کا ایک سہولت کار ہے آج تک یہ جماعت اپنی شناخت کے لیے ترس رہا ہے کسی کو پتہ تک نہیں ہے کہ این پی کا اصل معنی کیا ہے یہ وفاق کی جماعت ہے یا کسی صوبے کی نمائندگی کرتا ہے جب کوئی جماعت جس صوبے سے وجود رکھتی ہو اور اس صوبے کے نام سے اسے الرجی ہو پھر کیسے یہ تسلیم کیا جائے کہ یہ عوام کی نمائندگی کے لیے بنی ہے


