ٹریفک پولیس عوام دشمنی پر مبنی اقدامات سے گریز کرے ،پشتونخوا میپ
کوئٹہ(یو این اے )ٹریفک پولیس عوام دشمنی پر مبنی اقدامات سے گریز کرے ، بدترین مہنگائی ، بیروزگاری کے باعث عوام پہلے ہرشعبہ زندگی میں بدترین مشکلات سے دوچار ہیں ، ریڑی بانوں ، تھڑے والوں پر روزانہ کی بنیاد پر تنگ کرنا ، ریڑھی اور سامان ضبط کرنا انہیں فاقوں پر مجبور کرنا ہے ، ٹریفک قوانین پر عملدرآمد ہر شہری کی ذمہ داری ہے تاکہ شہر میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل کو قابو کیا جاسکے۔ ٹریفک پولیس کے اہلکار ہر چوراہے پر نہ صرف شہریوں کو تنگ کرتے ہیں ، رکشے ، گاڑی ، موٹر سائیکل کاغذات ہونے کے باوجود شہریوں سے لوٹ مار جاری رکھے ہوئے اورسب سے زیادہ ریڑی بانوں کو تنگ کیا جارہا ہے یا تو شہر میں ان کیلئے مخصوص مقامات کا تعین کیا جائے تاکہ وہ وہاں پر اپنے روزی روٹی کما سکے یاپھرانہیں تنگ کرنے ، حراساں کرنے ، تشدد کرنے ، پولیس تھانے میں دھونس دھمکیاں دینے ، سامان کو ضبط کرنے کا سلسلہ ترک کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹری کبیر افغان ،ضلعی سینئر معاون سیکرٹری جمشید دوتانی ، علاقائی سیکرٹری اسلم خلجی نے تحصیل سٹی سے مربوط شار دوئم علاقائی یونٹ کے زیر اہتمام مسجدروڈ پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ احتجاجی مظاہرین کے شرکائ نے ٹریفک پولیس کے ڈی ایس پی خاتون آفیسر اور انسپکٹر ٹریفک پولیس سٹی کے ناروا ، تاجر دشمن ، عوام دشمن ، غریب دشمن پر مبنی اقدامات اور غیر انسانی ، غیر اخلاقی ، غیر قانونی رویوں کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ مقررین نے کہا کہ ملک میں معاشی صورتحال انتہائی ابتر ہے ، مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے ، عوام کی قوت خرید ختم ہوگئی ہے اور عوام نان شبینہ کا محتاج بن چکے ہیں ،آئے روز ٹیکسز ، اشیائ ضروریات کی قیمتوں میں اضافے ، بیروزگاری نے شہریوں کو نان شبینہ کا محتاج بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب باڈر ٹریڈ پر پابندی عائد کردی گئی میں شاہراہوں پر چیک پوسٹوں پر لوٹ ماری جاری ہے ، پھر ہر ضلع اور یہاں گوداموں ، مارکیٹوں ، دکانوں پر چھاپے اور کروڑوں ، اربوں کے مال کو ضبط کیا گیا ، اب شہر میں وہ ریڑی بان جو محنت مزدوری کے تحت اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں روزانہ ان دوآفیسران کی خصوصی دلچسپی اور ناروا اقدامات کے ذریعے تنگ کرنے کا سلسلہ تھم نہیں پارہا ہے۔ اس صوبے میں کوئی صنعت کاری کانظام نہیں ، کارخانے موجود نہیں،نوجوان روزگار کیلئے در پدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں ، زراعت مکمل تباہی سے دوچار ہیں بجلی کی لوڈشیڈنگ ، وقت پر پانی نہ ملنے ، گزشتہ سال کی سیلاب کی تباہ کاریاں ایسی صورتحال میں عوام کو تنگ کرنے سے گریز کیا جائے پہلے ہی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارہے ہیں۔ انہوں نے کہا اس شہر میں کاروبار مکمل طور پر ختم ہوتا جارہا ہے ، بازار بھرے پڑے ہیں لیکن اشیائ خریدنے والا کوئی نہیں اس قسم کی غیر قانونی اقدامات کو جاری رکھنے سے مزید مسائل میں اضافے ہونگے اگر یہ ریڑھی بان اپنے حلال روزی کمارہے ہیں اور آپ انہیں نہیں چھوڑے تو پھر کل کو اگر کوئی جرائم کی جانب جاتا ہے اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ عوام کو روزگار ، تعلیم ، صحت کے بنیادی ضرویات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لیکن حکومت یہ سہولیات دینے میں ناکام رہی ، پولیس کی ذمہ داری شہریوں کو جان ومال کو تحفظ دینا اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی اور ہر علاقے میں امن وامان کے قیام کو بہتر بنانا ہے ، ٹریفک پولیس بھی اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے ، ٹریفک بند ہونے کے وقت شہر کے کسی چوک، چوراہے پر کوئی اہلکار نظر نہیں آتا تین سے چار ٹریفک اہلکار ایک ہی ساتھ کھڑے ہوکر گپ شپ میں مصروف ہوتے ہیں عوام اپنی مدد آپ کے تحت ٹریفک روانی کو برقرار رکھتے ہیں۔ لیکن بعض بعض مقامات پر ایسے ٹریفک اہلکار بھی موجود ہوتے ہیں جو انتہائی ایمانداری کے ساتھ اپنی پوری ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہیں۔ ہم ا±ن ٹریفک پولیس آفیسران اور اہلکاروں جو عوام کو بیجا تنگ کرنے ، رشوت خوری میں ملوث ہیں کی مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کو معطل کیا جائے، اور ایسے آفیسر جو پہلے سے ہی معطل ہوئے ہو ان کو دوبارہ بحال کرنے خصوصی طور پر ٹریفک کی ذمہ داری دینا اور ریڑی بانوں کو تنگ کرنا ، ان کی تضحیک کرنے کے اقدامات کے مرتکب ہونا سمجھ سے بالاتر ہے ، اس پشتون بلوچ صوبے میں اور پشتون روایات کے مطابق پھر خواتین کو احترام دیاجاتا ہے ان کی عزت کی جاتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ محکمہ ایک معطل ہونیوالی خاتون کو دوبارہ خصوصی سفارشات پر بحال کرکے غریب عوام پر مسلط کرے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے وفد نے بارہا ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بھی کی اور ان تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا لیکن افسوس کہ ان کی غیر سنجیدگی نے مسائل میں کمی کی بجائے مزید اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔مقررین نے مطا?لبہ کیا کہ عوام دشمنی پر مبنی اقدامات ،کرپشن اور عوام کی تضحیک وتذلیل میں ملوث آفیسران واہلکاران کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور آئی جی پولیس، ایس ایس پی ٹریفک پولیس ودیگر متعلقہ حکام شہر میں ٹریفک پولیس کیلئے خصوصی تربیت اور انہیں اپنے اصل فرائض کی انجام دہی کا پابند بناتے ہوئے عوام کے ساتھ اخلاقی رویہ درست کرنے اور ٹریفک کے مسائل کے خاتمے کیلئے اقدامات کریں۔


