پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچانا ہوں گے، علی مردان ڈومکی

کوئٹہ (آن لائن) نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان میر علی مردان ڈومکی نے کہا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے اور گڈ گورننس قائم کرنے کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لئے تمام کمشنر ، ڈپٹی کمشنرز اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں تاکہ لوگوں کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے چھٹکارا دلایا جاسکے۔ سیلاب زدگان کی حالت زار بدلنے کے لئے وفاق سے صوبے میں پی ڈی کی تعیناتی ہوگئی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کی شام وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے پریس سیکرٹری شیخ عبدالرزاق بھی موجود تھے۔ میر علی مردان ڈومکی کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ اب ٹرانسپورٹرز، اور تاجروں کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ گاڑیوں کے کرایوں اور تاجر برادری اشیائ خوردونوش سمیت روز مرہ کے استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں اسی تناسب سے کمی کریں تاکہ قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہ راست غریب عوام کو حاصل ہوسکے۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت بھر پور اقدامات کررہی ہے۔ اور اس حوالے سے تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے سربراہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ بلوچستان بھر میں اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے فعال کردار ادا کریں۔ تاکہ لوگوں کو مہنگائی سے چھٹکارا دلانے کے لئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کے بعد اشیائ خوردونوش کی قیمتوں کا فائدہ لوگوں کو ملے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان بھر میں امن و امان کی صورتحال کو آئیڈیل نہیں حکومت اپنے دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے امن کی بحالی اور اس کی بہتری کیلئے بھرپور اقدامات اٹھارہی ہے۔انہوں نے تربت میں مزدوروں کے قتل پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بلوچستان کی روایت بھی نہیں کہ باہر سے آکر یہاں پر مزدوری کرکے اپنے بال بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے آنے والے مزدوروں کے ایسا برتا? کیا جائے۔ تربت واقعے کے ذمہ داروں کی گرفتاری کیلئے حکومت سنجیدہ ہے۔اور کوششیں جاری ہے ان کا کہنا تھا کہ تربت واقعے میں انتظامیہ کی کوتاہیاں ہیں، ایس پی کو معطل کردیا ہے۔ باہر سے آنے والے مزدوروں کی رجسٹریشن ہونی چاہئے تھی۔ لیکن اس میں ذمہ داری میں کوتاہی برتی گئی۔ اس لئے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور جس گھر میں یہ واقع پیش آیا ہے انہیں بھی شامل تفتیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور میں خود 22 اکتوبر کو تربت جاکر تحقیقات کا جائزہ لوں گا۔ اور جائے وقوعہ کا بھی دورہ کروں گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ غیرقانونی افغان مہاجرین کی با عزت طریقے سے واپسی ہونی چاہئے۔ جو کوئی ان کے ساتھ نارواسلوک کرے گا اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔ اس کے علاوہ قومی شاہراہوں پر افغان مہاجرین اور سمگلنگ کے حوالے سے غیر قانونی اقدامات اور ان کو بلا وجہ تنگ کرکے پیسے لینے والوں کے خلاف بھی معلومات حاصل کرکے کارروائی کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں امن وامان کی بہتری اور سنگینی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے دفعہ 144 کا نفاذ امن و امان کو قائم رکھنے اور عوام کے تحفظ سمیت بہتری کیلئے کیا گیاہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو مالی مشکلات سے اللہ اور وفاق ہی نکال سکتا ہے۔یہاں مسائلستان ہے ہم کوئی خواب نہیں دیکھ رہے کہ خواب سے بیدار اور تمام معاملات صحیح سمت پر چل رہے ہو اسی طرح ترقیاتی کاموں میں تیزی کیلئے اداروں پر دبا? بڑھا رہے ہیں۔ اور کوئٹہ پیکج کے تحت بننے والے منصوبوں کا دو بار دورہ کرچکا ہوں جس کے بعد تعمیراتی کام میں تیزی آئی ہے سیلاب متاثرین کی بحالی سے متعلق اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے بحیثیت وزیر اعلیٰ شرکت کی ہے۔ اور گزشتہ دو سال سے سیلاب متاثرین بحالی کیلئے وفاقی کی جانب سے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی کے لئے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے شخص کا نام تجویز کرکے تعیناتی کردی گئی ہے۔ اور عالمی ڈونرز سے ملنے والا پیسہ اب لوگوں کی بہتری پر خرچ ہوگا۔ انتخابات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کرانے کا جب اعلان کرے گا اور شیڈول دے گا تو ہم انتخابات کرواکر چلے جائیں گے اور صحیح سمت حکومت اور صوبے کی راہ متعین کرکے جائیں گے تاکہ آنے والی حکومت کو اس پر چلتے ہوے مسائل سے حل میں کوئی مشکل درپیش نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں