مطالبات تسلیم نہ ہوسکے، جامعہ بلوچستان میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا احتجاج گیارہویں روز بھی جاری
کوئٹہ(آن لائن)جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے زیر اہتمام جمعرات کو اپنے جائز اور منظور شدہ مطالبات کے لئے گیارہویں روز کو جمعہ مبارک بھی جامعہ بلوچستان کے ایڈمن اور ایگزامیمشن بلاک احتجاجا بند رکھا اور قلم چھوڑ ہڑتال جاری ریا اور ایک بڑا احتجاجی جلوس جامعہ کے مختلف شعبہ جات اور ریسرچ سینٹرز سے ھوتے ھوئے وائس چانسلر سیکرٹریٹ کے سامنے ایک بڑے احتجاجی جلسے میں تبدیل ھوا۔ احتجاجی جلسہ زیرصدارت پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ منعقد ہوا ،احتجاجی جلسے سے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، شاہ علی بگٹی، پروفیسر فرید خان اچکزئی‘نعمت اللہ کاکڑ، سید محبوب شاھ، اسحاق پرکانی نے خطاب کیا مقررین نے کہاکہ جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر اور دیگر اعلی انتظامی آفیسران نے تحریری معاہدے پر عملدرآمد نہ کرکے دھوکہ دہی اور دروغ گوئی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نےکہا کہ ہم کسی صورت اپنے جائز اور منظور شدہ مطالبات سے دستبردار نہیں ہونگے۔مقررین نے کہا کہ تینوں ریسرچ سینٹرز کے اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین کو انکی مکمل تنخواہوں سے محروم رکھا گیا ہیں اور انہیں اس سال اضافہ شدہ 35 فیصد اور ہاوس ریکوزیشن سے پچھلے دو سالوں سے محروم رکھا گیا مقررین نے اعلان کیا کہ بروز سوموار کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اہم اجلاس بلایا گیا ہے جس میں سخت فیصلے کئے جائیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری جامعہ کے وائس چانسلر پر عائد ہوگی۔ک سے کئے گئے مظاہرین نے اعلان کیا کہ بروز سوموار کو بھی ایڈمن اور ایگزامیمشن بلاک احتجاجا بند رکھا جائے گا اور ایڈمن سے ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ نکالا جائے گا جو مختلف شعبہ جات سے ھوتے ھوئے ایڈمن بلاک کے سامنے بڑا احتجاجی جلسے میں تبدیل ہوگا تمام اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین سے اپیل کی کہ وہ اپنے منظور شدہ مطالبات کے لئے احتجاجی مظاہرے میں بھرپور انداز میں شرکت کریں۔


