مہاجرین کیخلاف آپریشن صرف افغانیوں تک محدود نہیں، بین الصوبائی اسمگلنگ کیخلاف اقدامات اٹھائے جائینگے، جان اچکزئی ،بریگیڈئر (ر) حارث نواز

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی اور وزیر داخلہ سندھ بریگیڈئر (ر) حارث نواز نے کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ان کا کہنا تھا کہ یکم نومبر سے غیرقانونی مقیم غیر ملکیوں کو بے دخل کیا جائے گا، دنیا میں کہیں بھی غیرقانونی طور پر مقیم رہنے کی اجازت نہیں ہے۔ 31 اکتوبر تک غیرقانونی مقیم غیرملکیوں کو واپس جانے کا موقع دیا ہے اس کے بعد کارروائی کی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی سپلائی ہمارے بچوں کیلئے خطرناک ہے، گٹکا، ماوا، آئس اور دیگر منشیات کیخلاف کارروائیاں کررہے ہیں۔غیر قانونی مقیم مہاجرین کیخلاف آپریشن صرف افغانیوں تک محدود نہیں ہے۔بلوچستان سندھ بارڈر پر اسمگلنگ روکنے کیخلاف مزید موثر اقدامات اٹھائے جائینگے۔نگران وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی نے کہا کہ مدت ختم ہوتے ہی غیرقانونی مقیم افراد کو چن چن کر نکالا جائے گا، یہ لوگ غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، غیر قانونی ایرانی ڈیزل ہو اور افغان سامان کی آمد بھی بند کردی ہے۔نگران وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی نے کہا ہے کہ کہا کہ بلوچستان سمیت ملک بھرسے غیر ملکیوں کو نکالنے میں ایک ہفتہ رہ گیا ہے، بلوچستان حکومت غیرقانونی طور پر مقیم افراد کو چن چن کر نکالے گی، ہم نے ایگزٹ پوانٹ قائم کردیئے ہیں اور کیمپ بھی بنائے جارہے ہیں جو غیرملکی نہیں جارہے انہیں گرفتاری اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔جان اچکزئی نے کہا کہ ریاست کو غیر قانونی مقیم افراد سے متعلق تشویش ہے کیوں کہ یہ لوگ غیرقانونی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں، تمام تر وفاقی ادارے اس سلسلے میں اپنا کام کر رہے ہیں، سندھ کے وزیر داخلہ سے آج اس لیے ملاقات بھی کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم مشترکہ کوششیں کرتے ہوئے کوسٹل ہائی وے کو محفوظ بنارہے ہیں، انٹری ایگزٹ پوائنٹ کو محفوظ بنارہے ہیں، یہ قومی ایشو ہے، غیر قانونی ایرانی ڈیزل ہو یا افغان سامان ہم نے سب کی وطن آمد روک دی ہے۔ایک سوال کے جواب میں نگران وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ریاست جتھوں کیخلاف ہے، لشکر بلوچستان کیخلاف کارروائی ہوگی،حکومت نے فورسز کے ذریعے وڈھ میں امن بحال کردیا ہے،لشکر بلوچستان کی سربراہی سابق وزیر اعلیٰ کرتے آرہے ہیں، اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ، حکومت نے تنازعہ کے حل کیلئے مزاکرات کی پیشکش بھی کی لیکن سردار اختر مینگل کی جانب سے کوئی شریک نہ ہوا۔وڈھ تنازعہ کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے غیر قانونی اقدامات جن میں روڈ کو بلاک کرنا یا دفعہ 144 کی خلاف ورزی ہر گز برداشت نہیں کی جائے گی۔حکومت قبائلی تنازعات کو قبائلی طریقے سے حل کریں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں