موسمیاتی تبدیلوں کی روک تھام، وانگ اور لسبیلہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام تین روزہ تربتی ورکشاپ

اوتھل (انتخاب نیوز) موسمیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کے لیے وانگ اور لسبیلہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام سی ایف ایل ائی کے تعاون سے تین روزہ ٹریننگ کا انعقاد,موسمیاتی تبدیلی کی روک تھام میں متحرک لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا یا پھر مکمل تباہی سے دوچار ہونے کے لیے تیار ہو جائیں کیونکہ دنیا کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے ٹریننگ کی اختتامی تقریب سے مقررین کا خطاب ،تفصیلات کے مطابق سماجی تنظیم وانگ و لسبیلہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام کینڈین فنڈز فار لوکل انیشٹیو کے تحت موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف نوجوانوں کے متحرک کردار پر تین روزہ ٹریننگ ورکشاپ کا انعقاد لسبیلہ یونیورسٹی کے انوارئمنٹ سائنس ڈیپارٹمنٹ میں کیا گیا جس میں یونیورسٹی مختلف ڈیپارٹمنٹ میں پڑھنے والے نوجوانوں نے شرکت کی، ٹریننگ میں ماسٹر ٹرینز نے ماحولیاتی تبدیلی، وجوہات، روک تھام اور کردار پر بات کی ٹریننگ میں ویڈیو، فیلڈ وزٹ، گروپ ورک، سیشن،ڈسکشن کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں کے عوامل پر سیکھتے و سکھانے کی سرگرمیاں انجام دی اس موقع پر تین روزہ ٹریننگ کی اختتامی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں جس میں شرکائ میں سرٹیفکیٹ تقسیم کیے گے اس موقع پر لسبیلہ یونیورسٹی وائس چانسلر ڈاکٹر دوست محمد بلوچ شعبہ انوارئمنٹ سائنس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم بزدار ،پروفیسر ڈاکٹر عبدالحکیم بندیچہ , عبدالقادر رونجھو، حفصہ قادر، آفتاب احمد اور بدر علی سمیت ٹرینرز نے خطاب کیا اور کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں کچھ وقت پہلے تک اس موسمیاتی تبدیلی کو صرف ایک قیاس سمجھا جاتا رہا ہے لیکن ماہرین نے جس رفتار سے موسمیاتی تبدیلی کی پشن گوئی کی یہ تبدیلیاں اس سے کئی زیادہ رفتار سے اپنا اثر دکھا رہی ہیں چاہے وہ بارشوں کی کثرت اور معمول سے زیادہ ہونے کی صورت میں ہو یابلکل بھی نا ہونے کی کی صورت میں یا پھر ٹھنڈے علاقوں میں گرمی کی شدت اور دورانیے میں اضافے کی صورت ہو ہر جگہ یہ تبدیلی اپنا اثر مختلف طریقوں سے دکھا رہی ہے۔مقررین نے مزید کہا کہ اب بھی اگر ان تبدیلیوں کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا اور اس سے نمٹنے کیلئے خاطر خواہ توجہ اور انتظامات نہ کیئے گئے تو ان تبدیلیوں سے مستقبل میں تابناک نتائج برآمد ہوتے دکھائی دے رہے ہیں مقررین نے مزید کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے کہ انسان تمام ان سرگرمیوں کو ترک کرے جو موسمیاتی تبدیلی کا سب بن رہی ہیں۔ اس کے لیے جو ممکنہ اقدامات ہو وہ کیے جائیں۔ یہ جتنا جلد ممکن ہو سکے کیا جائے مقررین نے مزید کہا کہ ھمیں ماحول دوست اقدامات کو فروغ دینا ہوگا تاکہ مثبت رویے سے ھم موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم سے کم کرسکے۔تقریب میں سماجی کارکنان اور میڈیا کے دوستوں نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں