کسٹم اور فورسز کی رشوت ستانی، گوداموں پر چھاپے اور لوٹ مار کا سلسلہ بند کیا جائے، انجمن تاجران اور آل پارٹیز کا مطالبہ
کوئٹہ (آن لائن)مرکزی انجمن تاجران بلوچستان اورسیاسی جماعتوں کے رہنما?ں نے تاجروں کو کسٹم اور کسٹم انٹیلی جنس کی جانب سے بلاجواز تنگ کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاجروں کے گوداموں پررات کے اندھیرے میں چوروں کی طرح تالے توڑ کر کروڑوں روپے مالیت کا سامان قبضے میں لینے اورتاجروں کو بلاجواز تنگ کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند اور تاجروں کے 23نکاتی مطالبات پر عملدرآمدنہیں کیا گیاتو 6نومبرکودھرنا دیا جائے گاجس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔یہ بات مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدرعبدالرحیم کاکڑ ،پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدرعبدالقہار وادان ،کبیر افغان ، گل خلجی، بلوچستان نیشنل پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری،نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان علی احمد لانگو،جماعت اہلحدیث کے نائب امیر عصمت اللہ سالم، نجیب اللہ ،جماعت اسلامی کے ڈاکٹر عطائ الرحمن ،حافظ نورعلی ،مسلم لیگ(ن) کے رہنماحیدر خان اچکزئی،مرکزی انجمن تاجران کے حضرت علی اچکزئی، میر یاسین مینگل، حاجی سعداللہ اچکزئی ہاشم کاکڑ ،عبدالخالق آغا ،عبدالجبار کاکڑ ،حاجی خدائے دوست ،جہانگیرلانگو، عبدالرحمان شاہ، سیف اللہ لانگو، عنایت دورانی، امیر جان آغا، ودان کاکڑ اوردیگر نے پیر کو مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے زیراہتمام کوئٹہ پریس کلب میں کسٹم اور کسٹم انٹیلی جنس کے ناروا رویے اور چھاپوں کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ مقررین نے کہا کہ چمن بارڈر بادینی بارڈری سمیت دیگر بارڈرز ایریاز میں تجارتی سرگرمیوں، کاروبار پر عائد پابندیاں ختم کرکے اسلحہ اور منشیات کے علاوہ باقی تمام اشیائ کے کاروبار کو قانونی شکل دی جائے چمن بارڈر پر پاسپورٹ کو شرط ختم کی جائے،کوئٹہ شہر سمیت صوبے کے دیگر شہروں میں کسٹم کے چھاپے، گوداموں، دکانوں کو رات کے اندھیرے میں توڑنے کے اقدامات کا فی الفور خاتمہ کیا جائے اور قبضہ میں لئے گئے تاجروں کے سامان کو فوری طور پر واپس کیا جائے کسٹم اور سرکاری فورسز کو کوئٹہ سمیت کسی بھی شہر میں چھاپوں کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں ہے اور اس ضمن میں مارے گئے تمام چھاپے اور کارروائیاں غیر قانونی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسٹم اورپولیس کی جانب سے کوئٹہ شہر کے اندر ایک جگہ سے دوسری جگہ سامان منتقلی کے دوران سامان ضبط کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایران بارڈر پر تیل کے کاروبار کی اجازت دیکر ہزاروں بیروزگاروں کو دوبارہ برسرروزگار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مشاہد حسین سید کی کمیٹی جس نے صرف منشیات اور اسلحہ کو بارڈر ایریاز میں ممنوع کاروبار ڈیکلیئر کیا تھا اور باقی تمام اشیائ کے کاروبار کو تجارت قرار دینے کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے کوئٹہ شہر میں پولیس نے تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کو تباہ کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے، اور روزانہ کی بنیاد پر چوکوں، شاہراہوں پر تجارتی سامان سے لوڈ گاڑیوں سے سامان اتارنے، رشوت طلب کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں ٹریفک کے بھاری جرمانوں، عوام کو تنگ کرنے، غریب ریڑھی والوں کیساتھ جاری سلوک کا خاتمہ کیا جائے کوئٹہ شہر میں بدامنی، چوری ڈکیتی کے واقعات اور منشیات کے تمام معلوم اڈوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں جاری واپڈاآپریشن،عوام کی گرفتاریوں اور بھاری جرمانوں کو ختم ،کوئٹہ شہر میں غریب ریڑھی والوں کیلئے جگہ کا بندوبست کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں ایگل سکواڈ کی جانب سے عوام کو تنگ کرنے، رشوت طلب کا سلسلہ ختم کیا جائے کوئٹہ شہر میں کسٹم کے چھاپوں میں ضبط شدہ سامان کی تحقیقات کیلئے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کی جائے اور تمام سامان واپس تاجروں کودیا جائے اور تاجروں کی سامان کی لوٹ مار کرنے والے افسران کو سامنے لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ سکھر سندھ کسٹم انٹیلی جنس نے 20چینی سے بھری گاڑیوں کو ضبط کیا جن کے پاس ایف بی آر، ٹریکر، مل ،انوائس ، بلٹی، گیٹ پاس اور اجازت نامے بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ نوتال اور کولپور پر کسٹم اہلکار اور افیسران چینی سے لوڈ گاڑیوں سے این او سی کے باوجود بھاری رشوت طلب کرتے ہیں اور درجنوں گاڑیوں پر کیس بنائے گئے ہیں کوئٹہ شہر میں چینی کے مختلف گوداموں پر پولیس، کسٹم انٹیلی جنس کے چھاپوں نے عوام اور کاروباری طبقے کو تباہ کردیا ہےتاجر برادری اور حکومت، کسٹم انٹیلی جنس کے درمیان کئی دفعہ باہمی انڈرسٹینڈنگ سے طے پایا تھا کہ بلیلی اور سریاب کسٹم کے بعد شہر میں کسی بھی جگہ چھاپہ نہیں مارا جائیگا فوڈ ڈائریکٹر کوئٹہ میں صرف رشوت خوری کی غرض سے ہوٹلوں، دکانداروں کو بے جا تنگ کرکے ان سے جرمانے کی مد میں بھاری رقوم وصول کرتے ہیں جسے فوری طور پر بند کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن ،میٹروپولیٹن کارپوریشن نے اپنی جائیدادوں کے کرایے غیر قانونی طور پر بڑھا کر غریب دکانداروں کو نان شبینہ کا محتاج بنادیا ہے اور کرایہ کم کرکے مناسب کرایے وصول کئے جائیں،انہوں نے کہا کہ تجارتی سامان کوئٹہ این ایل سی میں ٹیکس وصولی کے باوجود ملک کے دیگر شہروں خاص کر ملتان میں اس ٹیکس وصولی کو تسلیم نہیں کیا جاتا ہے لوکل اسکریب کوئٹہ سے لاہور اور دیگر شہروں میں منتقلی کے دوران ضبط کیا جاتا ہے جو تاجروں کے معاشی قتل کے مترادف ہے ،نان کسٹم پیڈ (کابلی گاڑیوں) کی آڑ میں کسٹم، پولیس، ایکسائز کے حکام گاڑیوں کو تھانوں میں بند کرکے ہزاروں روپے وصول کرتے ہیںقلعہ سیف اللہ،ڑوب، لورالائی، بارکھان، چاغی، نوشکی اوردیگر اضلاع میں غیر قانونی پراپرٹی ٹیکس کو ختم کیا جائے مذکورہ پراپرٹی ٹیکس انگریز دور سے 2032تک لاگو نہیں ہے۔مقررین نے کہا کہ اگر تاجروں کے جائز مسائل حل اور 23نکاتی مطالبات پر عملدرآمد نہیں کیا گیاتو 6نومبر بروز پیر کو کسٹم آفس کے سامنے دھرنا دیا جائے گا اوراسی روز صوبے بھر میں شٹرڈا¶ن ہڑٹال اور مظاہروں کااعلان کریں گے


