پاکستان میں انسانی حقوق نظر نہیں آرہے، ہمیں پرامن احتجاج سے روکنا ناانصافی ہے، پی ٹی آئی
کوئٹہ (آن لائن)پاکستان تحریک انصاف لائرز فورم کے رہنما?ں سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق نائب صدر بار ایسوسی ایشن آف پاکستان سید اقبال شاہ ایڈووکیٹ نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ عوام کی نظریں عدلیہ پر مرکوز ہے ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کو قائم و دائم رکھ کر تمام سیاسی جماعتوں کو قانون کے مطابق اپنی انتخابی مہم چلانے کے لئے جلسے اور جلوس کی اجازت دی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو اپنے دیگر ساتھیوں جمیل احمد بوستان ایڈووکیٹ، شمس الرحمن رند ایڈووکیٹ سمیت دیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر دیگر وکلائ رہنمائ بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انسانی بنیادی حقوق کہیں نظر نہیں آرہے جس کی وجہ سے ہمیں پر امن احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہمارے صوبائی قائدین پر مقدمات درج ہیں رات کی تاریکی میں گھروں پر چھاپے مار کر گرفتاریاں کی جاتی ہے جبکہ دیگر پارٹیوں کو جلسے جلوس کی مکمل آزادی ہے ضلعی مجسٹریٹ پی ٹی آئی کے لئے دفعہ 144 کا نفاذ کرتے ہیں اور ہم قانونی تقاضوں کے مطابق انتظامیہ سے پر امن جلسے اور جلوس اور ریلی کی اجازت طلب کرتے ہیں لیکن نہیں دی جاتی جس کے خلاف عبدالرحیم کاکڑ نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور رٹ پٹیشن دائر کی ہے دوسری جانب کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا جاتا ہے اور ہمیں جلسوں کی اجازت نہیں دوسری جانب ملک بھر میں سرکاری مشینری دیگر پارٹی کے جلسے کی کامیابی کے لئے حرکت میں رہتی ہے حالانکہ ہمارے ہمسایہ ملک اور دنیا دیگر ترقی یافتہ ممالک میں آئین کی بقائ قائم ہے ہمارے ملک میں رول آف لائ نہیں اب عوام کی نظریں عدالت عظمیٰ اور چیف جسٹس آف پاکستان پر مرکوز ہے کہ وہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق دلائیں گے۔ جبکہ اسلام آباد عدالت عالیہ کی جانب سے ایک شخص کو بےجا پروٹوکول دیا جاتا ہے اور عمران خان کی پٹیشن کو قبول نہیں کیا جاتا یہ دہرا معیار معاشرے کے لئے تباہی کا باعث ہے اس کا سدباب کرکے انصاف کی فراہمی، عدلیہ کی آزادی ، قانون کی حکمرانی کو ممکن بنایا جائے۔


