لاپتا افراد کے ان کاﺅنٹرسے لواحقین شدید کرب میں مبتلا ہیں، چیف جسٹس گمشدہ افراد کی بازیابی یقینی بنائیں، وی بی ایم پی

کوئٹہ (آن لائن)وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ 600 لاپتہ ہونے والے بلوچستان کے لوگو ں کی بازیابی کے لئے سردار اختر جان مینگل کی سربراہی میں بننے والے کمیشن کی رپورٹ تا حال سامنے نہیں آسکی چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانے اور جبری گمشدگیوں کی روک تھام کے لئے اپنے آئینی اختیارات استعمال کریں تاکہ ان کے اہلخانہ کو انصاف مل سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو عدالت روڈ پر لگائے گئے احتجاجی کیمپ میں ماما قدیر بلوچ اور حوران بلوچ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی اداروں کی جانب سے جبری گمشدگیوں کا تسلسل جاری ہے اور لاپتہ افراد کے فیک ان کائونٹر کی وجہ سے ان کے لواحقین شدید کرب میں مبتلا ہے 2012ئ میں تنظیمی سطح پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی اور 2018ئ تک سماعت ہوئی اور کیسز کی جوڈیشل انکوائری کروائی گئی جس میں ملکی ادارے شہریوں کو جبری لاپتہ کرنے میں ملوث پائے گئے ان کی روک تھام کے لئے آئینی اختیارات استعمال نہیں کیا گیا اور 2018ئ میں بننے والے کمیشن میں تمام کیسز فرا ہم کئے ہیں اور اس کی کارکردگی مایوس کن رہی جبکہ سینئر وکیل اعتزاز احسن نے جبری گمشدہ افراد کی بازیابی کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی اور ہم اس میں فریق بنے اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر لاپتہ افراد اور بلوچ طلبائ پروفائلنگ اور انہیں حراساں کرنے کے خلاف سردار اختر جان مینگل کی سربراہی میں ایک کمیشن بنا جس نے رپورٹ اسلام آباد ہائیکور ٹ میں جمع کرادی ہے اس پر رپورٹ پر عملدرآمد کرنے کے لئے سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کرے۔ مذکورہ کمیشن کے وفد نے کوئٹہ آکر احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا جس میں 600 لاپتہ افراد کے لواحقین موجود تھے۔ ا ن کا کہنا تھا کہ ہم نے 2016ئ میں اقوام متحدہ کی اسمبلی سے لاپتہ افراد کے حوالے سے تجاویز پاس کروائی تھی وہ بھی کمیشن کو دی اس کے علاوہ 59 لاپتہ بلوچ طلبائ کی جبری گمشدگی کے کیسز اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے ان کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ پر عملی اقدام اٹھائے تو ہم تنظیم کے توسط سے دیگر لاپتہ افراد کے کیسز مرحلہ وار سپریم کورٹ میں جمع کراتے جائیں گے۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ سے لاپتہ افراد کی بازیابی اور جبری گمشدیوں کو روکنے کے لئے اپنا آئینی کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں