نصیرآباد ڈویڑن میں پیپلزپارٹی قیادت میں اختلافات، چنگیز جمالی اور سلیم احمد کھوسہ آمنے سامنے آگئے
ڈیرہ اللہ یار ( این این آئی ) نصیرآباد ڈویڑن میں پاکستان پیپلزپارٹی میں عام انتخابات سے قبل ہی پھوٹ پڑ گئی، صوبائی صدر چنگیز جمالی اور سابق رکن بلوچستان میر سلیم احمد کھوسہ آمنے سامنے آگئے، میر سلیم احمد کھوسہ نے پیپلزپارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر چنگیز خان جمالی کی پریس کانفرنس کے ردعمل میں اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ صوبائی صدر چنگیز خان جمالی سے ملاقات میں سیاسی باتیں ہوئی ہیں، البتہ صوبائی صدر نے ملاقات کی اندرونی باتیں پریس کانفرنس میں عیاں کرکے دل آزاری کی ہے، ہمارے اکابرین مرحوم نبی بخش خان کھوسہ، مرحوم ظہور حسین کھوسہ نے ہمیشہ قومی سیاست کی ہے اور نیشنل اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑ کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، میں خود 2013 کے عام انتخابات میں آزاد حیثیت میں قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑ چکا ہوں حلقے سے 35 ہزار سے زائد ووٹ ملے، پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر چنگیز خان جمالی کو 17 ہزار ووٹ ملے، انکا مزید کہنا تھا کہ متوقع الیکشن میں بھی قومی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر امیدوار ہوں، تاہم صوبائی صدر چنگیز خان جمالی کی جانب سے قومی اسمبلی کی سیٹ پر رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے، میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا کہ بحیثیت رکن بلوچستان اسمبلی اپنے ساتھیوں سمیت پیپلزپارٹی میں شامل ہوا تھا، قیادت کو واضح طور پر آگاہ کرچکا ہوں کہ بلوچستان میں ہم سب ایک ہیں اور باہمی اتحاد و اتفاق سے الیکشن لڑینگے مگر چنگیز خان جمالی صوبے میں گروپ بندی کرنا چاہ رہے ہیں، جس سے پارٹی کا نقصان ہوگا، انہوں نے کہا کہ پارٹی کے سینئر رہنمائ محمد صادق عمرانی سے ملاقات میں انکی حمایت کا اعلان کرچکا ہوں، انہوں نے پارٹی قیادت سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ دلوانے کی یقین دہانی کرائی ہے، چنگیز خان جمالی مخالفت کر رہے ہیں، ایسا رویہ برقرار رکھا گیا تو آئندہ ساتھ چلنا مشکل ہو جائیگا، چند روز میں اپنے حلقہ انتضاب صحبت پور پہنچ کر قریبی احباب اور سیاسی دوستوں سے باہمی مشاورت کرکے اگلا لائحہ عمل مرتب کرینگے۔


