سینیٹ میں لاپتا افراد، جبری گمشدگیوں کی ایک بار پھر بازگشت
اسلام آباد (صباح نیوز) سینیٹ میں لاپتہ افراد جبری گمشدگیاں، بلوچستان میں آبپاشی کے لئے پانی کی عدم دستیابی اور چمن سرحد پر ہزاروں افراد کے دھرنا کے معاملات اٹھ گئے چیئرمین نے یہ معاملات متعلقہ کمیٹیوں کے سپردکردیئے ۔عوامی اہمیت کے نکتہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال بگڑھتی جارہی ہے خصوصا خیبر پختوانخواہ اور بلوچستان میں۔جنرل مشرف بلوچوں کو سبق سکھانے کے لیے زیادہ بیتاب دکھائی دیئے، بلوچستان میں جنرل مشرف کی لگائی گئی آگ آج تک بجھائی نہ جاسکی، طاقت کا استعمال بلوچستان کے مسئلے کا حل نہیں ،لاپتہ افراد کو بازیاب کرکے نتیجہ خیز مذاکرات کی راہ ہموار کریں،انھوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی نے کبھی بھی عوام کے جذبات کی عکاسی نہیں کی، پاکستان ہمیشہ امریکا کی پراکسی وار کا حصہ رہا جب آپ خطے کے لوگوں کے مفادات کو نقصان پہنچائیں گے تو کیا وہ پھول بھیجیں گے۔ سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ بھارت اور ایران تو دور آج پاکستان سے افغانستان کے طالبان بھی ناراض ہیں ایسی خارجہ پالیسی بنائیں جو عوام کے جذبات کی عکاسی کرتی ہو۔ جے یو آئی کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ بلوچستان میں زمیندار سراپا احتجاج ہیں وہ خشک علاقے ہیں ۔زراعت کے لیے ان کے پاس پانی نہیں ہے، گندم کی بوائی کے لیے پانی کی شدید ضرورت ہے، بلوچستان کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے ،انھوں نے کہا کہ جبری گمشدگیاں مسئلہ بنا ہوا ہے بلوچستان میں استحکام اور معاشی ترقی کا سوچا نہیں جا رہا، بلوچستان کے زمیندار بہت پریشان ہیں ،چئیرمن واپڈا کو اس ایوان کی جانب سے ایک نوٹس جاری کر دیں اگر پانی نہ ہو تو وہاں زمینداری کیسے چل سکتی ہے، فلسطین تو بعد میں جائیں کشمیر کی ہم نے 70 سال سے زائد حمایت کی، 75 سال سے پاکستان اپنا حصہ کہتا رہا لیکن انڈیا نے اسے اپنے نقشے میں شامل کر لیا ہم اور ہمارے حکمران نے ان کشمیریوں کے لیے کیا کیا جو ہم فلسطین کے لیے کیا کر سکتے ہیں ؟ جنگی سامان اور فوجی قوت تو حکومت دے سکتی ہے ہم فلسطین سے اظہار یک جہتی کر سکتے ہیں۔ سینٹر سردار شفیق ترین نے کہا کہ 18 روز سے چمن کے بارڈر پر ہزاروں افراد نے دھرنا دیا ہوا،چمن بارڈر پر ہر دن 30 ہزار افراد آتے اور جاتے ہیں۔اس کے لئے پاسپورٹ کر لازمی قرار دیا گیا ہے یہ فیصلے عجلت میں کئے جا رہے ہیں،چمن بارڈر سے روزانہ ہزاروں افراد کاروبار کے لئے آتے اور جاتے ہیں۔پاسپورٹ کی شرط عائد کر دی گئی تو یہ کاروبار کیسے ہوگا۔اس مسئلے پر فوری توجہ دی جائے جس سے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔معاملہ غور کے لیے متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا جائے۔چیئرمین سینٹ نے معاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔سینٹ کا اجلاس جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دیا۔


