فارغ التحصیل طلبا پڑھے لکھے بلوچستان کی تعمیر و تشکیل کیلئے اپنا کردار ادا کریں، عبدالولی کاکڑ

کو ئٹہ ( آئی این پی )گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے کہا کہ اساتذہ کرام کسی بھی قوم کے محسن ہوتے ہیںخواہ اُن کا تعلق دنیا کے کسی بھی ملک اور مذہب سے ہو تمام اساتذہ کا بلاامتیاز احترام و تکریم لازم ہے ہم دنیا کے کسی بھی حصے سے تدریس کی غرض سے آنے والے اساتذہ کا نہایت فراغ دلی سے خیر مقدم کرتے ہیںہم اُس حدیث مبارکہ پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرنے کیلئے چین بھی جانا پڑے تو ضرور جانا چاہیے آج یونیورسٹی آف بلوچستان کا بیسواں کانووکیشن مساوی طور پر طلبائ، اساتذہ اور والدین کیلئے نہایت خوشی اور مسرت کا موقع ہے اور اس کے کامیاب انعقاد پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن اور ان کی پوری ٹیم خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان کے بیسویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نگران وزرا ڈاکٹر قادر بخش بلوچ، کیپٹن (ر) محمد زبیر جمالی اور جان محمد اچکزئی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن، بلوچستان پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز صاحبان پروفیسر ڈاکٹر جان محمد، پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ، ڈاکٹر خالد حفیظ، ڈائریکٹر جنرل ہائیر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر ظہور بازئی علمی و سیاسی شخصیات، اور والدین سمیت طلباءو طالبات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔یونیورسٹی آف بلوچستان کے بیسویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے کہا کہ میرے لیے صوبے کی سب سے پرانی علمی درسگاہ کے کانووکیشن میں شرکت باعث فخر و مسرت ہے اگرچہ اس وقت صوبے میں ایک درجن کے قریب مختلف سرکاری یونیورسٹیاں علم کی روشنی پھیلا رہی ہیں لیکن آپ کسی بھی عمارت کی تعمیر میں خشتِ آول کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیںاسطرح یونیورسٹی آف بلوچستان کو صوبے کی پہلی اعلیٰ تعلیمی درسگاہ ہونے کی حیثیت سے ہمیشہ ممتاز مقام حاصل رہیگا۔ انہوں نے تمام فارغ التحصیل ہونے والے طلباءو طالبات، ان کے والدین اور اساتذہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی اور اس یقین کا اظہار کیا کہ اپنے مادر علمی سے آپ نے جو کچھ سیکھا ہے انہیں اپنی عملی زندگی میں پوری طرح بروئے کار لائیں گے انہوں نے کہا کہ عمومی طور پر نوجوانوں کو مسقبل کے معمار تصور کیے جاتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ مسقبل کے معمار ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ہمارے حال میں بھی شراکت دار ہیںانہوں نے تمام شرکاءپر زور دیا کہ پڑھے لکھے بلوچستان کی تعمیر و تشکیل کیلئے آپ سب اپنا کردار سنجیدگی اور دلجمعی کے ساتھ ادا کریںہمارا ہر ممکن تعاون آپ کو حاصل رہیگا۔وائس چانسلر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کانووکیشن سے خطاب کر تے ہو ئے کہا کہ جامع بلوچستان چھ فیکلٹی اور 49 شعبوں کے ساتھ فروغ تعلیم کے لئے کوشاں ہے،چودہ ہزار طلبا ءا زیر تعلیم ہیں جنہیں پڑھا نے کے لئے ہمیں200 پی ایچ ڈی اساتذہ کی خدما ت حاصل ہیں،انہوں نے کہا کہ ریسرچ کے شعبے میں عالمی جامعات کے ساتھ منسلک ہے، جامع بلوچستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ سب سے کم فیس وصول کرتی ہے، جامع میں تین سو ساتھ میگاواٹ کے شمسی توانائی کا پراجیکٹ اور اپنا ریڈیو ایف ایم قائم ہے۔قبل ازیں گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے فارغ التحصیل طلباءو طالبات میں گولڈ میڈلز اور اسناد تقسیم کیے۔آخر میں گورنر بلوچستان نے یونیورسٹی آف بلوچستان کے بجلی نظام کو سولر سسٹم پر منتقل کرنے کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں