بلوچستان کا دعویدار سردار سنگوٹ جیسی چھوٹی پہاڑی کے حصول کیلئے ہر جگہ سر نگو ں ہورہا ہے، جھالاوان عوامی پینل
خضدار (بیورو رپورٹ) جھالاوان عوامی پینل کے مرکزی رہنماءمیر صاحب خان المعروف رحمت رخشانی کا چہلم انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ ان کے آبائی علاقہ لخ گریشہ نال میں منائی گئی،چہلم کے موقع پر تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں خضدار،نال،کوئٹہ،وڈھ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی،تعزیتی ریفرنس سے جھالاوان عوامی پینل کے مرکزی رہنماءندیم الرحمن محمد شہی بلوچ۔سٹی آرگنائزر سردارزادہ میر شہزاد خان غلامانی اور مرکزی رہنماءمیر شہباز خان قلندرانی،میر احمد جان رخشانی،ڈاکٹر حبیب اللہ خدرانی،مولانا عبدالرحمن بزنجو،الفت براہوئی اور عبدالقادر گزگی سمیت مختلف شخصیات نے خطاب کیا مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ میر رحمت رخشانی ایک نڈر ا ور بہادرانسان تھے انہوں نے اپنی پوری زندگی ظالم جابر قوتوں کے خلاف جدو جہد میں گزاری،وہ اپنے قائد میر شفیق الرحمن مینگل کی قیادت میں ہمیشہ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی بھارتی حمایت یافتہ قوتوں کے خلاف، پاکستان کی استحکام مظلوم طبقات کی حمایت کی جدو جہد کی اور اسی جد وجہد کی پاداش میں ظالم جابر قوتوں نے انہیں نشانہ بنا کر ہم سے جسمانی طور پر جدا ضرور کر دیا مگر ان کی سوچ ان کا فلسفہ آج بھی زندہ ہے جھالاوان عوامی پینل کے کاروان میں شامل کارکن پاکستان مخالف قوتوں کو انجام تک ان کی جد و جہد اور ان کی سوچ کو ہم آگے بڑھائیں گے مقررین نے کہا کہ ہماری جماعت۔ہماری تحریک اور وقت کے ظالم جابر سرداروں اور انکے کالعدم دشت گرد تنظیموں کے خلاف ہے یہ ظالم سردار پہلے ان کالعدم تنظیموں کے زریعے جنگ لڑتے اور خود کو سیاسی لبادے میں چھپا کر ہمدردیاں بھی وصول کرتے مگر ہمیں خوشی ہے کہ پہلی دفعہ انہوں نے جرت کرکے وڈھ میں سامنے جنگ کی اور نتیجہ عوام کے سامنے ہے کہ کس طرح انہیں میر شفیق الرحمن مینگل کے جانثاروں نے جواب دیا مانتے ہیں کہ اس جنگ میں ہماری ساتھیوں کا خون بھی شامل رہا اور انہی ساتھیوں کی قربانیوں کی بدولت ہماا سر فخر سے بلند ہے کہ ہمارے ساتھیوں نے ظالم سردار کے خلاف سرنگوں ہونے کے بجائے شہادت قبول کی قربانیاں دی ہمارے آج کے لئے اپنا کل قربان کرکے تاریخ رقم کر دئیے ہم یہ واضح بتانا چاہتے ہیں کہ زندگی سے بھی زیادہ اگر کوئی شہ ہمارے پاس ہوتی تو ہم اس کو بھی میر شفیق الرحمن مینگل کی سوچ فلسفہ اور ان کے ذات کے لئے قربان کر دیتے مقررین کا کہنا تھا کہ آج چلتن اور شاشان کی چوٹیاں سوال کر رہی ہیں کہ بلوچستان کا دعویدار سردار سنگوٹ جیسے چھوٹی پہاڑی کے حصول کے لئے ہر جگہ سر نگو ں ہو رہا ہے،کوئٹہ سے لیکر اسلام آباد تک جگہ جگہ جھولی پھیلا رہا ہے مگر ان کی مانگ کہیں سے بھی پوری نہیں ہو رہی ہے اور ان کی یہ خواہش کبھی بھی پوری نہیں ہو گی بلوچستان کی ترقی و خوشحالی میں یہی لوگ سب سے بڑی رکاوٹ ہیں پہلے یہ لوگ روس سے رشتہ جوڑابعد میں خاموشی سے بھارت سے تعلق جوڑایہ ظالم جہاں چاہیں بیعت کرلیں بلوچستان کے حقیقی وارث انہیں ان کے مقاصد میں کامیاب ہونے نہیں دینگے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان با غیرت با ضمیر بلوچ اور براہیوں کی ہے گاندھی کے پیروکاروں کی نہیں ہم شہادت قبول کرینگے مگر ان ظالم قوتوں کے ہاتھوں بعیت نہیں کرینگے اللہ اور اللہ کے رسول کی غلامی میں رہ کر اپنی جدو جہد جاری رکھیں گے ہم قلیل ضرور ہیں مگر ہماری نصرت و مدد اللہ تعالیٰ کر رہے ہیں جھالاوان کے عوام کو ہم کہنا چاہتے ہیں کہ یہ جنگ ظالم اور مظلوم کی جنگ ہے،یہ جنگ حق اور باطل کے درمیان ہے،یہ جنگ قاتل اور مقتول کی ہے اس جنگ میں راہ حق کے سپاہی میر شفیق الرحمن مینگل کے ساتھ دیں ظالم سرداروں کا ظلم سہنے کے بجائے اپنے حق کی آواز بلند کرنے والوں کے ساتھ دیں محسن اور غدار کے درمیان فرق کو محسوس کریں کیونکہ شہید رحمت رخشانی کے فلسفہ اور میر شفیق الرحمن مینگل کے ساتھ کھڑے جتنے بھی جان قربان کرنے والے ساتھی ہیں جتنے بھی شہدائ ہیں ان کی قربانیاں آپ سب کے لئے ہیں ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم میر شفیق الرحمن مینگل کی قیادت میں شہدائ کی سوچ فلسفہ پر عمل کر کے ظالم قوتوں کو انجام تک پہنچانے تک جدو جہد کرینگے تعزیتی ریفرنس کے اختتام پر شہید رحمت رخشانی سمیت تمام شہدائ کے ایصال ثواب کے لئے اجتماعی دعا کرائی گئی اور لنگر تقسیم کیا گیا۔


