عرب اسلامی وزارتی کمیٹی غزہ کی صورتِ حال پر بات چیت کے لیے ماسکو پہنچ گئی

ماسکو ، ریاض(صباح نیوز) عرب اسلامی وزارتی کمیٹی غزہ کی صورتِ حال پر بات چیت کے لیے ماسکو پہنچ گئی ہے۔سعودی عرب، مصر، اردن، فلسطینی اتھارٹی اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ پر مشتمل کمیٹی کے ارکان برطانیہ اور فرانس کا دورہ بھی کریں گے جبکہ کمیٹی کا دورہ چین مکمل ہو گےا ہے۔ کمیٹی کے ارکان برطانیہ اور فرانس کے دوروں کے دوران برطانوی وزیر اعظم رشی سوناک اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون سے ملاقاتیں کریں گے ۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بیجنگ اور ماسکو کا دورہ نہیں کیا کیونکہ ترک صدر رجب طیب اردوان الجزائر کے دورے پر ہیں۔ہاکان فیدان نے الجزیرہ کو بتایا کہ مسلم ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام سفارتی اور انسانی ہمدردی کے طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی کرانے کی کوشش کریں گے، مزید کہا کہ اسرائیل کو حملوں کو لازمی روکنا چاہیے۔ ادھر سعودی پریس ایجنسی کے مطابق غیر معمولی مشترکہ اسلامی عرب سربراہی اجلاس کی طرف سے تفویض کردہ وزارتی کمیٹی نے پیر کو بیجنگ میں چین کے نائب صدر ہان ژینگ سے ملاقات کی۔اجلاس میں شریک کمیٹی کے ارکان میں سعودی عرب، اردن، مصر، فلسطین اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ اور اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہ شامل تھے۔ہان ژینگ نے 11 نومبر کو ریاض میں منعقدہ سربراہی اجلاس کی کاوشوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والے فیصلوں کو سراہا جن کا مقصد غزہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا، شہریوں کی حفاظت اور امن کی کوششوں کو بحال کرنا ہے۔انہوں نے کمیٹی کی کوششوں کے لیے چین کی حمایت پر بھی زور دیا۔نائب صدر نے کہا کہ چین غزہ میں جنگ بندی پر زور دینے، شہریوں کی حفاظت، پٹی میں انسانی امداد کی اجازت دینے اور مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل تلاش کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے حصول اور جلد از جلد امن کو یقینی بنانے کے لیے عرب اور مسلم ممالک کے ساتھ ہم آہنگی اور کام کرنے کا خواہاں ہے۔کمیٹی کے ارکان نے غزہ کی پٹی کے بحران کے حوالے سے چین کے مقف کی تعریف کی جو ان کے بقول مسلم اور عرب ممالک کے موقف سے مطابقت رکھتا ہے۔انہوں نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے حصول کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں چین کے مثبت کردار کو بھی اجاگر کیا۔ملاقات میں غزہ میں فوری جنگ بندی تک پہنچنے اور نہتے شہریوں اور عبادت گاہوں، الشفا ہسپتال اور انڈونیشین ہسپتال سمیت اہم سہولیات کے مراکز کو اسرائیلی حملوں سے بچانے کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔کمیٹی کے ارکان نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے، غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو روکنے اور فوری انسانی امداد کے داخلے کے لیے محفوظ راہداریوں کو محفوظ بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے فلسطینی عوام کے حقوق کی ضمانت اور مشرقی یروشلم کے دارالحکومت کے ساتھ ایک آزاد ریاست کے قیام کے لیے بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق امن عمل کو بحال کرنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔کمیٹی کے ارکان نے اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے عالمی برادری کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں