ظالموں کو جبر کا لائسنس دینے والی جمہوریت اور آئین نامنظور، خالد مقبول صدیقی
کراچی(آئی این پی)ایم کیوایم پاکستان کے کنوینر خالدمقبول صدیقی نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم ایک دھوکہ ہی ہے، اٹھارویں ترمیم سے عام سندھی نہیں جاگیرداروں کو فائدہ ہوا ہے۔کنوینر ایم کیوایم پاکستان خالدمقبول صدیقی نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی شہر کے وسائل، مینڈیٹ کو لوٹنے نہیں دیں گے، پاکستان کا آئین آمروں، جابروں کا تحفظ کرتا ہے، ہم پاکستان کو ایک بہتر آئین دیں گے، یہی ہمارا منشور اور شرط ہوگی، جمہوریت کے ثمرات عوام تک نہ پہنچے۔خالدمقبول صدیقی نے کہا کہ ایسی جمہوریت نامنظور، ایسا قانون جو ظالم کو جبر کا لائسنس دیتا ہو ایسا قانون نامنظور کرتے ہیں، کورنگی سے ایک نئے سفر کا آغاز کریں گے، وسائل اور طاقت کی منصفانہ تقسیم ہونی چاہئے۔ علاوہ ازیں یہ شہر متعدد مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے ہر کوئی تارے توڑ کر لانے کے وعدے تو کرتا ہے مگر حقیقت اِس کے برعکس ہوتی ہے اس شہر میں معصوم بچے کھلے گٹروں میں گر کر مر رہے ہیں، ان خیالات کا اظہار متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفی کمال نے بزنس، اسٹوڈنٹس اینڈ ریزیڈنٹ آف نارتھ ناظم آباد کمیونٹی کی جانب سے منعقد مکالمے کے دوران کیا، گفتگو میں انکا مزید کہنا تھا کہ ہمیں بھی اوروں کی طرح ڈکیتی کرنے کا موقع ملا تھا مگر ہمارا دامن صاف ہے ایم کیو ایم کے دور نظامت میں کراچی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی کی مد میں 30ہزار کروڑ روپے خرچ کیئے گئے مخالفین اپنے اموں سے ہمیں تبدیل کرتے مگر ایسا کرنے میں وہ ناکام رہے، آخری بار کراچی میں ترقیاتی کام ایم کیو ایم پاکستان کے دور نظامت میں ہوئے ہم ہی ہیں جو اس شہر کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں ہم عوام کا سامنا کرنے والے لوگ ہیں، پیپلز پارٹی کی بدعنوان حکومت کے پندرہ سالوں میں بائیس ہزار ارب روپے محصولات کی مد میں جمع ہوئے مگر پینے کے پانی کے ایک قطرے تک کا اضافہ نہیں ہوا بلکہ ہائیڈرینٹ بنا کر غریبوں کو بیچا جارہا ہے پیپلز پارٹی کی متعصب حکومت آج چالیس فیصد کوٹے پر بھی ہمیں کوٹہ دینے پر تیار نہیں بلکہ جعلی ڈومیسائل بنا کر من پسند افراد کو بھرتی کرتی ہے پیپلز پارٹی کے حکمرانوں نے دلوں کو جیتنے کے بجائے تعصب کی وجہ سے ہمیشہ کراچی کے ساتھ آبادی کو درست گننے سمیت تمام بنیادی سہولیات پر سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا، ایم کیو ایم کے دور نظامت میں جو شہر ترقی کی راہ پر گامزن شہروں کی فہرست میں بارویں نمبر پر آتا تھا آج دنیا کے رہائش کے قابل بدترین شہروں میں اسکا شمار ہوتا ہے، ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسلہ وسائل پر صرف پانچ لوگوں کے اختیار کا ہونا ہے ایک وزیر اعظم چار وزرائے اعلیٰ تمام وسائل پر قابض ہیں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے تمام اختیارات و وسائل اعلیٰ ہاو¿س تک محدود کردیئے گئے بلکہ اس کی آڑ میں جو وسائل بلدیاتی حکومتوں کے پاس تھے وہ بھی چھین لیے گئے، اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح تک تقسیم کا کوئی فارمولا آئین میں موجود نہیں ہے، ہمیں اپنی بنیادی ضروریات زندگی کے اختیار کا آئینی تحفظ چاہیے اپنے گھروں میں آنے والے پانی کا اختیار و وسائل چاہئیں۔


