چیف جسٹس بالاچ قتل پر سو مو ٹو نوٹس لیں ، بی این پی
تربت (نمائندہ انتخاب ) بی این پی کے قائم مقام صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہاہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تربت میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں قتل ہونے والے بالاچ مولابخش کے حراستی قتل پر سوموٹو نوٹس لیں ، طاقتور حلقے جان لیں کہ بلوچستان کامسئلہ سیاسی ہے سیاسی طریقے سے ہی اسے حل کیاجائے ، بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کو اس طرح کے واقعات کی تدارک کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنی چاہیے ، بی این پی عام انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرے گی ، ان خیالات کااظہار انہوں نے اتوار کی شام تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، بی این پی کے رہنما ملک نصیر شاہوانی ، میرنزیراحمد، حاجی زاہد بلوچ، مرکزی پبلی کیشن سیکرٹری ڈاکٹر قدوس بلوچ ، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ڈاکٹرعبدالغفور بلوچ ، خان محمدجان ، سیدتیمور شاہ ، نصیر احمدبگی، شے ریاض احمد، حاجی عبدالعزیز ، نصیر گچکی ودیگر رہنما وکارکنان بھی موجودتھے ، ساجد ترین نے کہاکہ بالاچ مولابخش کا واقعہ پہلا واقعہ نہیں تاہم اس کی نوعیت مختلف ہے کیونکہ بالاچ بلوچ سی ٹی ڈی کی تحویل میں تھے انہیں عدالت میں پیش کیاگیا اور والدہ ودیگر لواحقین سے ان کی ملاقات کرائی گئی مگر 2دن بعد اس کی لاش پھینکی گئی ، اس طرح کی ماورائے عدالت قتل کی مثال ملنا مشکل ہے ، عدالت کے حکم کے باوجود سی ٹی ڈی کے ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ کے اندراج میں تاخیر کی جارہی ہے ، ایسی بربریت اور ظلم وسفاکیت سے سماج میں انارکی ، لاقانونیت اور افراتفری کا ماحول جنم لے گا ، اس لئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو از خود نوٹس لینا چاہیے انہوں نے کہاکہ وہ اس سلسلے میں چیف جسٹس کو خط بھی لکھیں گے کیونکہ فورسز کے بعد اب عدلیہ کے بارے میں بھی لوگوں کے ذہنوں میں سوالات پیداہورہے ہیں کہ عدلیہ کیوں خاموش ہے ، انہوں نے کہاکہ سردار اخترجان مینگل نے 500صفحات پرمشتمل جو رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی تھی جس میں توتک سے لیکر بلوچستان بھر سے واقعات کی تفصیلات ، لاپتہ افراد کی تفصیل ، اٹھانے اور لاشیں گرانے کے بارے میں مکمل رپورٹ شامل ہے جس پر حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم ، وفاقی وزیرداخلہ ، وفاقی وزیر دفاع کو 29نومبر کو عدالت میں طلب کرلیا ہے ، بی این پی لاپتہ افراد کے مسئلہ پر پوائنٹ اسکورنگ نہیں کررہی ہے بلکہ بلوچستان کاپہلا لاپتہ فرد پارٹی قائد سردار اخترجان مینگل کابھائی تھا ، لاپتہ افراد سمیت بلوچستان کے دیگر ایشوز پر اور بلوچستان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں بی این پی ہرجماعت کے ساتھ بات کرنے اور کسی بھی جماعت کے پیچھے چلنے کو تیار ہے ، انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی گھمبیر صورتحال میں عدلیہ اور سیاسی جماعتوں کو اپنا رول اداکرنا چاہیے ، ساجد ترین نے کہاکہ اگر آئندہ الیکشن صاف وشفاف ہوئے اور مداخلت نہ کی گئی تو بی این پی بلوچستان میں موثر پارلیمانی قوت بن کر ابھرے گی ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پارٹی کسی صورت الیکشن بائیکاٹ نہیں کرے گی بلکہ بھرپور مقابلہ کرے گی ۔


