بولان مائننگ کمپنی کیساتھ معاہدہ ختم، اختر مینگل کی سربراہی میں مقامی قبائل کی 14 رکنی کمیٹی قائم
خضدار (بیورو رپورٹ) بولان مائننگ کمپنی کے ساتھ معاہدہ کی مدت ختم ہوچکی ہے آئندہ اس کمپنی کو فیروز آباد سے کسی بھی صورت میں لوڈنگ اور ڈمپننگ کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ اس حوالے سے مردوئی قوم کے مختلف طائفوں سے چودہ رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے، چودہ رکنی کمیٹی کی سربراہی سردار اختر مینگل کریں گے، آج کے اس پریس کانفرنس میں ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ 5دسمبر کے بعد بولان مائننگ کام خود بند کردے یا پھر مردوئی قبائل مل کر اس کمپنی کے گیٹ کو تالا لگائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار خضدار فیروز آباد کے مردوئی قوم کے مقامی عمائدین و مردوئی قوم کے مختلف ٹکوں کے نمائندوں میر عبد الستار مردوئی، محمد عثمان مردوئی، میر غلام رسول مردوئی، عبدالحکیم مردوئی، حاجی خیر محمد مردوئی، ماسٹر عبد اللہ مردوئی، پیر جان مردوئی و دیگر نے خضدار پریس کلب میں پر ہجوم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بولان مائننگ انٹر پرائز خضدار کے ساتھ فیروز آباد کے لوگوں کا جو معاہدہ تھا اب اس معاہدے کی مدت ختم ہوگئی ہے، اب نئے معاہدے میں ہم فیروز آباد کے حصص 25 فیصد کرنے کے خواہاں ہیں، ہمارے وسائل لوٹے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے ساتھ نا انصایوں کی ایک لمبی کہانی ہے، بلوچستان کو اس کے اپنے وسائل سے محروم رکھا گیا ہے، جس کی مثالیں جہاں اور کہیں ہیں تو اس کی ایک مثال خضدار میں بو لان مائننگ کمپنی بھی ہے۔ اس کمپنی نے 1976 میں ہونے والے پر ابتک دس فیصد بھی عمل نہیں کیا۔ 1976 کے معاہد کے تحت فیروز آباد کے علاقہ میں جہاں سے یہ معدنیات نکلتے ہیں اسکولوں کی تعمیر، ہسپتالوں کی تعمیر مقامی لوگوں کو ملازمتیں فراہم کرنا شامل تھے لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ ان معاہدوں پر بولان مائننگ کمپنی نے عمل درآمد نہیں کیا اس کمپنی میں چھوٹے ملازمتوں میں مقامی لوگوں کو نظر انداز کیا گیا اور اس کے ساتھ ٹیکنیکل پوسٹوں پر مقامی اور پھر بلوچستان کے لوگوں کو ترجیح دینے کا معاہدہ شامل تھا لیکن اب ہم اگر اس کمپنی کے ملازمتوں پر نظر کرتے ہیں اس کمپنی کے اہم ترین اسامیوں پر مقامی و صوبہ کے لوگوں کے علاوہ دوسرے صوبوں کے لوگ دکھائی دیتے ہیں جبکہ ہمارے اپنے لوگوں کے پاس ڈگریاں ہیں اور وہ ڈگریاں لیکر مارے مارے پھر رہے ہیں اس لئے ہم صوبائی اعلی ٰ حکام کمشنر قلات ڈویژن بمقام خضدار، ڈپٹی کمشنر خضدار سے اپیل کرتے ہیں کہ نئے معاہدہ آنے تک بولان مائننگ کمپنی کو کام کرنے سے اصولی طور پر روک لیں و رنہ اس کے نتیجہ میں تصادم ہونے کا خطرہ ہوگا اور ہم یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ بولان مائننگ کمپنی نے یہ جن ٹھیکیداروں کے ساتھ معاہدہ کیا ہے یا جن لوگوں کو وہ فیروز آبا کا مالک سمجھتا ہے وہ مردوئی قبیلہ کے ہر گز نمائندہ نہیں ہیں نہ کہ ہم ان کی نمائندگی کو آئندہ کے لئے تسلیم کریں گے۔


