پاکستان میں کوئی دکان ایسی نہیں جو اپنی حدود میں رہتی ہو، جسٹس فائز عیسیٰ

اسلام آباد (صباح نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ پاکستان میں کوئی دکان ایسی نہیں جو اپنی حدود میں رہتی ہو، اگر ایسے دنیا میں کریں گے تووہاں جرمانہ بھی کریں گے اور لیز بھی منسوخ کردیں گے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے یحییٰ بختیار کی جانب سے چیف آفیسر میونسپل کمیٹی نوشکی اوردیگر کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کی جانب سے ارشد محمود بطور وکیل پیش ہوئے۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس کے مﺅکل کی دوکان کی پیمائش نہیں کرکے دی گئی اور کم پیمائش دی گئی ہے۔ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ پریس کلب والوں نے راستہ تنگ ہونے کے حوالہ سے اعتراض کیا تھا۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پریس کلب والے تو انڈیپینڈنٹ لوگ ہوںگے ان کا درخواست گزار سے کیا مسئلہ ہوسکتا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا معاملہ دوکان کی پیمائش کے لئے ریمانڈ بیک کردیا جائے۔ اس پر جسٹس امین الدین خان کا کہناتھا کہ کیس ریمانڈ بیک کرنے کا مطب یہ ہے کہ ہم تین عدالتوںکے فیصلوںکو ختم کردیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کسی بھی معاملہ کے فیصلہ کے لئے ٹرائل کورٹ ہی بیسٹ کورٹ ہے۔ چیف جسٹس نے درخواست گزار سے پوچھا کہ ماتحت عدالتوں سے کیس ہارے کے جیتے اور کیا کوئی جرمانہ بھی اداکیا کہ نہیں۔ اس پر وکیل کا کہنا تھا کہ تمام عدالتوں سے کیس ہارے ہیں تاہم جرمانہ نہیں ہوا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ نہ ہو کہ ہم جرمانہ بھی کردیں اور درخواست بھی خارج کردیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی دوکان نہیں جو اپنی حدود میں رہتی ہے اور کچھ نہیں توباہر چارکرسیاں رکھی ہوں گی، دنیا میں اگر ایسا کریں تووہاں پر جرمانہ بھی کریں گے اور لیز بھی ختم کردیں گے۔اس پر درخواست گزار کا کہنا تھا کہ مجھے درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے زورنہ دینے کی بنیاد پر درخواست مستردکردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں