چین کا ہانگ کانگ سے متعلق سیکیورٹی قانون تمام اقوام کی توہین ہے: مائیک پومپیو

ہانگ کانگ :امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ چین کا ہانگ کانگ سے متعلق نیا سیکیورٹی قانون تمام اقوام کی توہین ہے۔ امریکہ کو اس قانون اور ہانگ کانگ کے خطے میں رہنے والے لوگوں بشمول امریکیوں کے تحفظ پر سخت تشویش ہے۔
مائیک پومپیو نے بدھ کو کہا ہے کہ نئے قانون کے آرٹیکل 38 کا اطلاق ان افراد پر بھی ہوتا ہے جو ہانگ کانگ کے شہری بھی نہیں ہیں اور ان لوگوں پر بھی جنہوں نے ہانگ کانگ کی حدود سے باہر کوئی جرم کیا ہو۔
اُن کے بقول، "بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہانگ کانگ میں نافذ سیکیورٹی قانون کا آرٹیکل 38 ہانگ کانگ میں مقیم امریکی شہریوں کے لیے ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یہ قانون اشتعال انگیز اور تمام اقوام کے لیے توہین آمیز ہے۔خیال رہے کہ چین کی پارلیمنٹ نے دو روز قبل ہانگ کانگ سے متعلق نیا سیکیورٹی قانون منظور کیا تھا جس کے تحت چین کے قومی سلامتی کے قوانین ہانگ کانگ میں نافذ کیے گئے ہیں۔
نئے قانون کے تحت چین کے سیکیورٹی اداروں کو ہانگ کانگ میں کام کرنے کی اجازت ہو گی اور وہ اپنے دفاتر ہانگ کانگ میں بھی کھول سکیں گے۔
نیا سیکیورٹی قانون ہانگ کانگ کے شہریوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ علیحدگی سے متعلق کسی بھی قسم کی سرگرمیوں میں شرکت، علیحدگی کے نعرے لگانے یا بینرز اور جھنڈوں کو تھامنے سے گریز کریں۔ بصورتِ دیگر وہ قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے۔
چین نے 30 جون کو یہ قانون ہانگ کانگ میں نافذ کیا جس کے نفاذ کے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اس قانون کے تحت گرفتاریاں شروع کر دیں۔
دوسری جانب برطانیہ نے ہانگ کانگ کے شہریوں کو برطانیہ کی شہریت دینے کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں