چمن دھرنے پر حکومتی ہٹ دھرمی کیخلاف ڈپٹی کمشنروں کے دفاتر کا گھیراﺅ کریں گے، عبدالرحیم زیارتوال
کوئٹہ (یو این اے) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال نے کہا ہے کہ چمن پر لت کے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو پشتونخوا میپ 19دسمبر صوبہ کے جنوبی اضلاع میں احتجاجی مظاہرے اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر کا گہراو کیا جائے گا اگر پھر بھی مسئلہ حل نہیں ہوا تو اس سے سخت قدم اٹھائیں گے پشتونخوا میپ آئندہ انتخابات میں بھر پور حصہ لے گی اگر شفاف انتخابات کا انعقاد ہوا پشتونخوا میپ بھر پور طور پر کامیابی حاصل کرے گی چمن میں دو ماہ سے مختلف سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین کی جانب سے ہزاروں لوگ سراپا احتجاج ہیں لین بد قسمتی سے حکومت ان کے جائز مطالبہ کو حل کرنے کے بجائے اس مسئلہ کو جان بوجھ کر طول دے رہی ہے مشاہد حسین کی کمیٹی نے اپنے سفارشات میں اسلحہ اور منشیات کے علاوہ باقی سب کو تجارت دے کر تمام چیک پوسٹوں کو ختم کردیا گیا تھا ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پہ سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر حامد خان اچکزئی کبیر افغان منان بڑیچ سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے پشتونخوا میپ کے مرکزی سیکرٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو ماہ سے چمن میں مختلف سیاسی جماعتوں قبائلی عمائدین اور وہاں روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے ہزاروں لوگوں نے پرلت کے نام پر احتجاجی دھرنا دیا ہے اس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ پشتونخوا میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی بھی دو مرتبہ پرلت میں جاکر خطاب کیا اور انہوں نے حکومت کو گزشتہ جمعہ تک کا وقت دیا کہ وہ ان احتجاج کرنے والوں کا جائز مطالبات حل کریں بصورت دیگر سخت احتجاج کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے احتجاج کیا ہے وہ روزانہ کی بنیاد پر یہاں سے تجارتی سامان لے کر قندہار اور قندہار سے سامان لے کر چمن آتے ہیں انہی سے ان کا گزر بسر ہوتا ہے جو گزشتہ 130برسوں سے چلا آرہا ہے یہ دنیا بھر میں سرحدوں پر رہنے والوں کیلئے ایک سہولت ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ملک میں تجارت کیلئے سرحدی اضلاع کے لوگ دونوں جانب ان کی آمدورفت کی اجازت ہوتی ہے لیکن حکومت نے پاسپورٹ کا جو شرط لگا یا ہے ان سے ان لوگوں کی روٹی روزی کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے کیونکہ جب ڈیورڈ لائن دونوں جانب وہاں آباد قبائل کے گھر زمینیں اور قبرستان ہے انہوں نے کہا کہ ہم پورے پاکستان کے عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ اس میں کوئی ایسا ابہام نہیں اور نہ ہی کو سخت مطالبہ ہے اگر حکومت پھر بھی ہٹ دھرمی کا مظاہر ہ کرتی ہے تو 19دسمبر سے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹروں میں احتجاجی مظاہرے اور ڈپٹی کمشنروں کے دفاتر کا گہراوکیا جائے گا اگر پھر بھی مسئلہ حل نہیں ہوا تو اس سے بھی سخت قدم اٹھا یا جائے گا ایک سوال کے جواب میں عبدالرحیم زیارتوال کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور میں باقاعدہ ایک وفد افغانستان گیا دو طرفہ تجارت کے حوالے سے ان کا معاہدہ بھی ہوا لیکن اس وقت چمن کے عوام نان شبینہ کے محتاج ہیں اس وقت ان لوگوں کے موت اور زندگی کا مسئلہ ہے حکومت ضد کے بجائے افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلہ حل کریں بلوچستان واحد صوبہ ہے جہاں صنعت کا محکمہ تو موجو د ہے لیکن صنعت موجود نہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک نگران وزیر جس کی اپنی شہریت ہی مشکوک ہے وہ بلند و باند دعوے تو کرتے ہیں تاہم انتخابات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پشتونخوا میپ انتخابات کیلئے تیار ہے اگر شفاف انتخابات ہوئے تو عوام کی ووٹوں سے بھر پور کامیابی حاصل کریں گے۔


