بلوچستان میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار ختم ہوکر رہ گیا ہے، ٹرانسپورٹ تنظیمیں
کوئٹہ (آن لائن)معروف ٹرانسپورٹرز حاجی حکمت لہڑی،حاجی دولت خان لہڑی،حاجی قادر رئیسانی، میر ممتاز لہڑی،آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی کے صدر حاجی حبیب اللہ بادیزئی، سیکرٹری جنرل حاجی میر اکبر لہڑی، نائب صدور حاجی ولی خان اچکزئی ،حاجی موسی جان اچکزئی ،حاجی سیف الدین، حاجی ابراہیم، حاجی شمس اللہ، حاجی علی محمد نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار ختم ہوکر رہ گیا ہے۔ بدترین کمر توڑ مہنگائی کے سبب لوگوں میں کہیں بھی آنے جانے کی سکت نہیں رہی۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے نگران حکومت نے پاکستان سے غریب اور درمیان طبقے کے لوگوں کو ختم کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ انھوں نے کہا۔کہ ٹرانسپورٹروں نے کروڑوں روپے قرضے لیکر اس کاروبار میں لگائے۔تاکہ اپنے بچوں کیلے دو وقت کی روٹی کما سکیں۔ مگر ٹرانسپورٹروں کیلے ہمیشہ مشکلات پیدا کیے گئے۔جن سے تنگ آکر کئی ٹرانسپورٹر اپنا کاروبار ختم کرکے اب گھروں میں بیروزگار بیٹھے ہیں۔ انھوں نے کہا۔ کہ عوام پہلے ہی بدترین مہنگائی سے پریشان ہیں۔ رہی سہی کسر گیس کی قیمتوں میں اضافے نے پوری کردی۔ اور گیس کی قیمتوں میں 172 فیصد اضافے کا مطلب سردیوں میں لاکھوں روپے کے بلوں کا نوٹس آنا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ سردیوں کے آغاز سے گیس غائب ہونا شروع ہو چکا ہے۔ اور اب صارفین کو بھاری برکم بل بیچ کر عدم ادائیگی پر ان کے گیس منقطع کیے جائیں گے۔ کیونکہ صارفین میں اتنی سکت نہیں کہ گیس اور بجلی کے بھاری برکم بل ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ سردیوں میں بلوچستان بھر اور بالخصوص کوئٹہ اور گردونواح کے عوام گیس سے محروم ہو جاتے ہیں۔ انہیں گیس سونگنے کے لیے بھی نہیں ملتا۔ اس پر ستم یہ کہ اب انہیں لاکھوں روپے کے بل بھیجے جائیں گے۔ انہوں نے کہا۔ کہ کمر توڑ مہنگائی کا شکار گیس صارفین پر بھاری برکم بل ایٹم بم حملے سے کم نہیں ہوں گے۔ عوام سے جینے کا حق بھی چھینا جا رہا ہے۔


