ہم کسی سے وسیع تر انتخابی اتحاد نہیں کریں گے، اسحق ڈار
سیٹ ایڈجسٹمنٹ محدود پیمانہ پر کی جائے گی، مولانا فضل الرحمن سے اچھے تعلقات اور عزت و احترام کا رشتہ ہے، احترام ایک طرف ہے اور انتخابات ایک طرف،ہماری پارٹی نے بھرپور طریقے سے ٹکٹوں کی تقسیم پر کام کیا ہے،ٹکٹیں 12جنوری سے بہت پہلے فائنل کردی جائیں گی،جن کو ٹکٹ دئیے جائیں گے ان کے علاوہ باقی امیدوار کاغذات واپس لے لیں گے، سابق وزیر خزانہ کی گفتگو اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سینئر رہنما و سابق وفاقی وزیر اسحق ڈار نے کہا ہے کہ ہم کسی سے وسیع تر انتخابی اتحاد نہیں کریں گے، سیٹ ایڈجسٹمنٹ محدود پیمانہ پر کی جائے گی، مولانا فضل الرحمن سے اچھے تعلقات اور عزت و احترام کا رشتہ ہے، احترام ایک طرف ہے اور انتخابات ایک طرف،ہماری پارٹی نے بھرپور طریقے سے ٹکٹوں کی تقسیم پر کام کیا ہے،ٹکٹیں 12جنوری سے بہت پہلے فائنل کردی جائیں گی،جن کو ٹکٹ دئیے جائیں گے ان کے علاوہ باقی امیدوار کاغذات واپس لے لیں گے۔پارلیمنٹ ہاﺅس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ محدود پیمانہ پر کی جائے گی، مولانا فضل الرحمن سے اچھے تعلقات اور عزت و احترام کا رشتہ ہے لیکن احترام ایک طرف ہے اور انتخابات ایک طرف، ہماری پارٹی نے بھرپور طریقے سے ٹکٹوں کی تقسیم پر کام کیا ہے، مسلم لیگ (ن)نے 2200 سے زائد امیدواروں کے انٹرویوز کیے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن)کے 33 رکنی بورڈ نے انٹرویوز کیے، ٹکٹوں کا حتمی فیصلہ اب اعلی قیادت مشاورت سے کرے گی، ٹکٹیں 12 جنوری سے بہت پہلے فائنل کر دی جائیں گی، تمام امیدواروں سے کہا گیا ہے کہ وہ کاغذات جمع کروادیں، جن کو ٹکٹ دیے جائیں گے ان کے علاوہ باقی امیدوار کاغذات واپس لے لیں گے، ٹکٹوں کے حوالے سے پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے، ابھی کافی دن باقی ہیں۔انہوںنے کہاکہ ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد عوامی انتخابی مہم شروع کریں گے شاہ محمود قریشی کی گرفتاری کے حوالے سے سوال پر اسحق ڈار نے جواب دیا کہ شاہ محمود قریشی اور ہم نے اکٹھے سیاست کی ہے، قانون پر عمل ہونا چاہیے تاہم پی ٹی آئی کی تاریخ کوئی اتنی اچھی نہیں ہے، سیاسی انتقام کی جو تاریخ پی ٹی آئی نے رقم کی اس کی مثال نہیں ملتی، اللہ کرے سب کو انصاف ملے۔


