حکمران آنے والے دنوں میں ملک کو آئی ایم ایف کے حوالے کریں گے،مولاناواسع
کو ئٹہ:جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ ملک مضبوط جمہوری نظام کے بنا ء آزادانہ فیصلوں کا تصور ممکن نہیں، فیصلے خواہشات پر نہیں بلکہ انصاف اور ثبوتوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں، لاہور ہائی کورٹ نے حق اور سچ پر مبنی فیصلہ دے کر عدالتی وقار کو بچالیا ہے، اسلام آباد میں آقاؤں کی خواہش پر مندر بنانے کا فیصلہ موجودہ حکمرا نوں کی نااہلی کا ثبوت ہے یہ سب کچھ کسی اور کے اشارے پرکیا جا رہا ہے۔ جمعیت علماء اسلام وفاقی حکومت کے تمام فیصلوں کو مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ ملک میں فوری طو رپر نئے انتخابات کرائے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انڈیپنڈنٹ نیوز آف پا کستان سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لئے آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کا ہونا ضروری ہے موجودہ حکمرانوں نے آزاد میڈیا کو دبانے کی بھر پور کوشش کی مگر پھر بھی وہ اپنے ارادوں میں ناکام ہوگئے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک ملک میں حق اور سچ کی بنیاد پر فیصلے نہیں ہوں گے تب تک یہ ملک بحرانوں سے نہیں نکل سکتا۔ غیر سیاسی فیصلوں سے ملک مضبوط نہیں ہوگا بلکہ انارکی پھیلنے کے خدشات مزید بڑھیں گے۔ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔ موجودہ حکومت اس وقت جو بھی فیصلے کررہی ہے وہ ملک اور قوم کے مفاد میں نہیں، وفاقی بجٹ بھی آئی ایم ایف کی خواہشات پر بنایا گیا اور اب سرکاری ملازمین کو ایڈہاک کی بنیاد پر تنخواہیں دینے کی کوشش کی جارہی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکمران آنے والے دنوں میں ملک کو آئی ایم ایف کے حوالے کریں گے کیونکہ جب بجٹ آئی ایم ایف کی خواہشات پر بنائی جاتی ہے گیس، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بھی آئی ایم ایف کی خواہشات پر کیا جارہا ہے ملک میں جب تک عوامی مفادات کے فیصلے نہیں کئے جاتے اس وقت تک ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی محکموں میں بلوچستان کے کوٹے پر لگائے گئے صوبوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو فوری طور پر برطرف کیا جائے اور بلوچستان کے عوام کے ساتھ ہونے والے ناانصافی کا ازالہ کیا جائے بلکہ ان پوسٹوں پر بلوچستان کے مقامی افراد کو بھرتی کیا جائے۔


