مسنگ پرسنز بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ نہیں، اکثر لوگ مسلح تنظیموں میں ملوث ہیں، جمال رئیسانی
اسلام آباد (انتخاب نیوز) اسلام آباد میں بلوچستان شہدا فورم کی جانب سے لگائے گئے دھرنا کیمپ میں آرگنائزر جمال رئیسانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میںمسنگ پرسنز کا مسئلہ ہے لیکن سب سے بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ ہم بلوچستان شہدا فورم کی جانب سے یہاں بیٹھے ہیں، ہمارے ساتھ شہدا کے لواحقین ہیں۔ ہم اس لیے یہاں موجود ہیں کہ ہمارے شہدا کیساتھ ظلم ہورہا ہے، ایک سازش کے تحت بلوچ کو بلوچ سے لڑایا جاتا ہے، بلوچ کو پشتون سے لڑایا جاتا ہے، بلوچ کو پنجابی کیساتھ لڑایا جاتا ہے، لیکن آواز اٹھانے والا کوئی نہیں۔ ان کو ریاست کے نام پر مارا جاتا ہے، ان میںسرفہرست کوئی مزدور ہے، کوئی ریڑھی والا ہے، کوئی ٹیچر ہے۔ ہم نے شہدا کیلئے بلوچستان شہدا فورم کے نام سے پلیٹ فارم بنایا جو شہدا کی امداد اور داد رسی کرتا ہے۔ ہم نے حکومت سے متعدد مرتبہ مطالبہ کیا ہے کہ آپ شہدا کے لواحقین کیلئے کوٹہ رکھیں۔ ہم آج مجبوراً اس جگہ پر آئے ہیں کہ ہماری بات کوئی نہیں سنتا، ہمیں کوئی مظلوم سمجھتا نہیں ہے، ہم یہ مطالبہ لے کر آئے ہیں کہ پورے پاکستان میں شہید ہم ہورہے ہیں، ہمارے لیے بھی آواز اٹھائی جائے۔ مجھے اقتدار کا شوق نہیں، سیاست میں اس لیے آیا تھا کہ میں منتخب ہوکر عوام کی خدمت کرسکوں۔ میں آج شہدا کے لواحقین کیساتھ بیٹھا ہوں ان سے اظہار یکجہتی کیلئے۔ ایک سازش کے تحت بلوچستان میں آگ لگائی جارہی ہے، یہ آگ مسلح تنظیمیں لگا رہی ہیں۔ ہم لواحقین لانگ مارچ دھرنا کے شرکاءسے بھی اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ اگر مسنگ پرسنز کا ایشو ہے تو شہدا کا بھی ایشو ہے، ریاست کو سمجھنا چاہیے، بات نہیں سنی جائے گی تو اسی لیے ہم دھرنا دینے آئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں ایڈریس کیا جائے، ہماری بات سنی جائے۔ اس سارے معاملے میں درمیان میں بلوچ قوم پس رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے ک ہمیں سنا جائے، ہمیں کتنی اور شہادتیں دینا ہوں گی، اگر بلوچستان میں بلوچ جینو سائیڈ ہے، پنجابی بھی جینو سائیڈ ہے تو ہم بھی جینو سائیڈ کا شکار ہیں۔ دھرنے کا فیصلہ میرا نہیں شہدا کے خاندانوں کا ہے، ہم اپنا معاملہ سپریم کورٹ میں لے جائیں گے، میڈیا کو بھی لے جائیں گے۔ جو بلوچ حقیقی مسنگ پرسنز ہیں ہم ان کی یقینا حمایت کرتے ہیں۔ مسنگ پرسنز کے کچھ لوگ مسلح تنظیموں میں ملوث ہیں جنہیں آپ رد نہیں کرسکتے۔


