قومی سطح پر ہمارا اخلاق درست نہیں تو ہماری قسمت انتخابات کے ذریعے نہیں بدلے گی، مولانا شیرانی
کوئٹہ (آن لائن)رہبر جمعیت مولانا محمد خان شیرانی نے کہاہے کہ جو لوگ ہمارا خون بہاتے ہیں ہماری عزتیں لوٹتے اور آبادیاں اجاڑتے ہیں یہ مغرب اور اس کے اتحادیوں سے اس عمل کا کرایہ لیتے ہیں اور جب ہم امریکہ مردہ باد کے نعرے لگاتے ہیں تو ہمارا قاتل امریکہ کے پاس جاکر کہے گا کہ یہ لوگ تو بگڑ گئے ہیں اور ان کو سیدھا کرنا ہمارا کام ہے لیکن تم ہمارا کرایہ بڑھادو لہٰذا ہمیں وہ سادہ لوح لوگ بن کر زندگی نہیں گزارنی چاہیے جو اپنے قاتلوں کا کرایہ بڑھانے کے لئے کردار ادا کریں زندگی کو بصیرت کی بنیاد پر گزارنا چاہیے جزبات کی بنیاد پر نہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ اسلامیہ بحر العلوم کوئٹہ کے سالانہ جلسہ دستار فضیلت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جلسے شیخ الحدیث مولانا نظر محمد حقانی شیخ الحدیٹ مولانا عبد الرف مولانا سمیع اللہ بن الحاج دلاور خان اور جامعہ کے نائب مہتمم مولانا عطا اللہ خان نے بھی خطاب کیا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد خان شیرانی نے کہاکہ ہم جب تک اپنا کردار تبدیل نہیں کرتے ہمارا انجام تبدیل نہیں ہوگا آج ہمارے اوپر اجتماعی طور پر ذلت اور مظلومیت مسلط ہے جب قومی سطح پر ہمارا اخلاق جھوٹ وعدہ خلافی دھوکہ خیانت اور خود غرضی ہو تو ہماری ذلت مظلومیت اور محکومیت محض انتخابات کے ذریعے، یا خون ریزی کے ذریعے یا دوسروں کو گالیاں اور بددیانتی کے ذریعے تبدیل نہیں ہوگا انہوں نے کہا کہ ہمارا قومی کردار یہ ہے کہ آج اگر ہم اپنے ملک کا جائزہ لیں تو وہ لوگ جو ہمارے کلمے کے بھی بھائی ہیں جو ہمارے اپنے ہم وطن بھی ہیں اور ہمارے ٹیکسوں سے قومی خزانے میں جمع ہونے والے پیسے سے تنخواہ اور مراعات بھی وصول کرتے ہیں لیکن راہ چلتے ہوئے جب ہمیں کسی مسلح ادارے کے اہلکار نظر آتے ہیں تو ہمارے دل میں سہولت، عزت اور حفاظت کا خیال پیدا ہونے کے بجائے خطرے کا احساس اجاگر ہوجاتاہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم مجموعی طور پر کسی انسانی معاشرے میں نہیں بلکہ درندوں کے جنگل میں رہتے ہیں انہوں نے کہا کہ بصیرت کی دنیا میں صاحب علم اور بے علم برابر نہیں ہوسکتے یہی وجہ ہے کہ تمام انسانوں کا اتفاق ہے کہ ہر فردبشر کا اولین فریضہ علم کا حصول ہے علم کی ایک قسم اپنی ذات کی شناخت ہے اور یہ شناخت اس لئے ضروری ہے کہ انسان کے کردار و اخلاق کی تشکیل و تعمیر انسان کی اپنی ذات کے شناخت کے بنیاد پر ہوتا ہے اور وہ اپنے کردار کا انتخاب یا اپنی زندگی کے اقدار کا چنا اپنی ذات کی شناخت کے بنیاد پر کرتا ہے جبکہ کائنات کا شناخت اس لئے ضروری ہے کہ انسان کی معاشی زندگی کی ضروریات و سہولیات اس وسیع کائنات سے متعلق ہیں اس سے قبل جامعہ بحرالعلوم کے فضلا کو جامعہ کے شیخ الحدیث نے بخاری شریف کے آخری حدیث کا درس دیا اور درس نظامی اور شعبہ ہائے حفظ و تجوید کے فضلا کی دستار بندی کی گئی ۔


