سوشل میڈیا پر قدغن، ماہ رنگ بلوچ کی واپسی

تحریر: انور ساجدی
پاکستان میں آزادی اظہاررائے کے لئے ایک مشکل دور آ رہا ہے اسلام آباد میں حکمران میڈیا پر غیرمعمولی قدغن لگانے کے لئے تیار ہیں اور انہوں نے پرنٹ میڈیا کو آئسولیشن وارڈ میں پہنچانے کے بعد ٹی وی چینلز کو اچھی طرح قابو کرلیا ہے۔تمام چینل نہ صرف تابع فرمان ہوگئے ہیں بلکہ انہیں مکمل طور پر آختہ کر دیا گیا ہے۔اس کامیابی کے بعد سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے قوانین تیار کئے جا رہے ہیں حالانکہ اس وقت جو حکمران ہیں انہیں اس کا مینڈیٹ حاصل نہیں ہے۔کافی سال پہلے جب دہشت گردی عروج پر تھی تو حکمرانوں نے ”ففتھ جنریشن وار“ کی اصطلاح گھڑی تھی۔ان کا دعویٰ تھا کہ پاکستان کے دشمن ممالک اور دیگر عناصر پروپیگنڈے کے ذریعے ریاست کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اس پروپیگنڈہ کے مقابلہ کے لئے انہوں نے ہزاروں نوجوانوں کو ففتھ جنریشن وار کے لئے تربیت دینا شروع کر دی۔باجوہ ڈاکٹرائن کے نفاذ کے بعد ان میں سے سینکڑوں نوجوانوں کو پی ٹی آئی سوشل میڈیا میں شامل کر لیا گیا یہ وہ دور تھا جب عمران خان اور ادارے ایک پیج پر تھے اورعمران خان کو لاڈلے کا درجہ حاصل تھا۔نوجوانوں کی اس ٹیم نے تباہی مچا دی۔حکمران خوش تھے کہ ملک دشمنوں کے پروپیگنڈے کا زبردست جواب آرہا ہے ۔تاہم2022 میں باجوہ سر نے اپنی ڈاکٹرائن تبدیل کر دی جس کے نتیجے میں عمران خان لاڈلے نہ رہے تو اداروں کی تربیت یافتہ سوشل میڈیا ٹیم عمران خان کے ساتھ مل گئی۔انہوں نے پروپیگنڈے کے ایسے تیر ایسے نشتر اور ایسی تلواریں چلائیں کہ اداروں کو لینے کے دینے پڑگئے۔گویا اپنی تیار کردہ فوج الٹی پڑ گئی اور مخالفین کی صفوں میں شامل ہوگئی۔اندازہ لگائیے کہ عمران خان نے 12ہزار لوگ صوبہ پختونخواہ کے پے رول پر رکھ لئے تھے جن میں بیشتر آج بھی وہاں کی حکومت سے تنخواہیں لے رہے ہیں۔عمران خان کی معزولی کے بعد اس سوشل میڈیا نے صحافتی اقدار،اصولوں اور ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔گالم گلوچ دشنام طرازی جھوٹی کہانیاں ناجائز الزامات اس ٹیم کے ہتھیار تھے جب حکمرانوں نے دیکھا کہ اس ٹیم کا مقابلہ کرنا مشکل ہے تو انہوں نے پیکا قوانین کے ذریعے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کی کوشش کی لیکن اس سے بھی کام نہ چلا۔بیچ میں خاص طور پر عمران خان کے خطابات یا تحریک انصاف کے ایونٹس کے موقع پرپی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس میں خلل ڈالنا شروع کر دیا لیکن تحریک انصاف والوں نے دیگر ذرائع استعمال کر کے اس کی توڑ نکالی۔پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا چھ براعظموں میں پھیلی ہوئی ہے اور ہزاروں سائٹس پر پاکستان کے اداروں اور حکمرانوں کے خلاف زبردست محاذ جنگ کھولے ہوئے ہیں۔چنانچہ حکمرانوں کو فکر دامن گیر ہے کہ اس بلا کا کیسے مقابلہ کیا جائے۔طویل سوچ و بچار کے بعد نئے طریقے لائے جا رہے ہیں جس طرح عمران خان پرنٹ میڈیا کے خلاف تھے اور وہ چاہتے تھے کہ یہ تاریخی اور روایتی ورثہ دم توڑ دے اسی طرح موجودہ نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ سوشل میڈیا کے اس سیکشن کے مخالف ہیں جو مرکزی سرکار اور اس کے اداروں سے برسرپیکار ہیں۔اگرچہ انوارالحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ یہ دور سوشل میڈیا کا ہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ اس سے صرف سرکار استفادہ کرے۔سیاسی پارٹیاں ریاست مخالف عناصر اور دیگر ایکٹیوسٹ اس سے دور رہیں لیکن فی زمانہ یہ ممکن نظرنہیں آتا۔معلوم نہیں کہ حکومت نے کون سا پلان تیار کر رکھا ہے اور وہ کس طر ح کے قوانین کے ذریعے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنا چاہتی ہے یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ 8 فروری کے عام انتخابات کے بعد جو نئی حکومت آئے گی اس کی اس بارے میں کیا سوچ ہوگی۔ویسے میڈیا پر قدغن کا پہلا قانون نوازشریف کے دور میں تیار ہوا تھا لیکن پی ایف یو جے اور سی پی این ای نے مل کر اسے ناکام بنایا تھا۔اگر انتخابات کے نتیجے میں میاں صاحب کی حکومت آئی تو وہ میڈیا پر قدغن کے نئے قوانین کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی بلکہ سہولت کار بن جائے گی کیونکہ تمام بڑے چاہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کی نئی بلا یا عفریت کو ہر قیمت پر کنٹرول میں لایا جائے۔اس مقصد کے لئے روس،چین،مصر اور ترکی کے ماڈلوں کا جائزہ لیا گیا ہے چین میں امریکہ سے تعلق رکھنے والی تمام ایپس پر پابندی ہے جبکہ اس نے اپنے متبادل ایپس بنا لئے ہیں۔اسی طرح روس نے بھی یہی کام کیا ہے۔سعودی عرب اور ایران میں ان پر مکمل پابندیاں ہیں۔ہوسکتا ہے کہ ہمارے حکمران ان ماڈلوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں جس کے بعد آزادی اظہار کی تدفین کے انتظامات کئے جائیں گے۔بدقسمتی سے بعض ممالک میں جمہوری نظام ہے ان کا ڈیجیٹل میڈیا آگے جا رہا ہے لیکن پاکستان کو دوبارہ قرون وسطیٰ کے دور میں لے جایا جا رہا ہے اور یہ کام اسلامی ریاست کے نام پر کیا جا رہاہے۔اگر حکمران جتنی سختی میڈیا پر کرنے جا رہے ہیں اتنی سختی بیڈگورننس اور کرپشن کے خلاف کرتے تو ملک اس حال تک نہ پہنچتا۔میڈیا کا شعبہ اس وقت سے ڈرے جب بھارتی انتہا پسند جماعت بی جے پی کی تقلید میں یہاں کے وار لارڈز ڈیتھ اسکواڈ اور انتہاپسند اپنے طور پر میڈیا کو ٹارگٹ بنائیں۔ہندوستان میں اگرچہ میڈیا بہت طاقتور ہے خاص طور پر اخبارات ہر طرح کی حکومت مخالف خبر وں کی اشاعت کے لئے آزاد ہیں لیکن حکمران جماعت کے جتھے اکثر بیشتر صحافیوں پر حملے کرتے ہیں اور حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی۔تین دن قبل جب مودی نے ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا افتتاح کیا تو بی جے پی کے کارکنوں نے مختلف شہروں خاص طور پر مہاراشٹر اور یو پی میں مسلمانوں پر حملے کئے تو میڈیا کو دھمکیاں دی گئیں کہ وہ ان خبروں کی اشاعت سے باز رہیں اگر ہمارے حکمرانوں نے نہیں روکا تو ٹی ٹی پی، داعش، لشکر احرار،حزب التحریر اور اس طرح کے جتھے میڈیا سے اپنے پرانے قرض چکا سکتے ہیں۔اگر ایسا ہوا تو الزام بھی انہی پر لگے گا اور حکومت بری الذمہ ہوگی۔کنٹرول پریس کا اصل چہرہ اس وقت سامنے آیا جب مسنگ پرسنز کی سینکڑوں خواتین اور بچوں نے اسلام آباد جا کر احتجاج کرنا چاہا جب ان کا قافلہ اسلام آباد میں داخل ہوا تو حکومت نے اس پر ہلہ بول دیا۔خواتین اور بچوں پر ڈنڈے برسائے ان پر پانی کی توپوں کا استعمال کیا لیکن پاکستان کے روایتی میڈیا نے اس پر کارروائی کی کوئی کوریج نہیں کی جب یہ”لٹا پٹا“قافلہ کسی طرح نام نہاد نیشنل پریس کلب کے سامنے پہنچا تو اسے کیمپ قائم کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جب انہوں نے کسی طرح بھی اپنا کیمپ قائم کرلیا توان کے موقف کو مکمل طورپر بلیک آﺅٹ کر دیا گیا۔چند ایک صحافیوں بلکہ کتنی کے دو تین صحافیوں کے علاوہ باقی تمام میڈیام پرسنز نے ان کے خلاف محاذ کھول دیا اور ان کو غداری کے الزامات سے نوازا۔بالآخر نیشنل پریس کلب نے باقاعدہ پولیس کو درخواست کی کہ متاثرین کے کیمپ کو اکھاڑ پھینکا جائے یا دوسری جگہ منتقل کیا جائے اس کے برعکس سرکاری دھرنے کی بھرپور کوریج کی گئی۔اسی طرح ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں نے نام نہاد آزاد پریس کا پول کھول دیا۔حالانکہ ماہ رنگ کا مقصد داد رسی حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ دنیا کو یہ دکھانا تھا کہ ریاست کے ایک حصے کے لوگوں کے ساتھ کیا ظلم و جبر اور زیادتیاں ہو رہی ہیں۔ماہ رنگ کا قافلہ واپس بلوچستان کے دارالحکومت شال پہنچ چکا ہے۔واپسی پر ہزاروں لوگوں نے اس کا استقبال کیا۔قافلہ کے خیرمقدم کےلئے ہزاروں لوگ دیوانہ وار امڈ آئے تھے۔لہٰذا حکمرانوں نے ایک احتجاجی مارچ کو ایک بڑی تحریک میں تبدیل کر دیا ہے۔
1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد جب بیگم نصرت بھٹو واپس کراچی آئی تھیں تو اس وقت کے نامور صحافی شاعر اور دانشور جوہرمیر نے ایک نظم لکھی تھی جس کا عنوان تھا۔
کوفہ سے واپسی
میں اسلام آباد کے کوفہ سے
سندھ مدینہ آئی ہوں
مت پوچھ کہ کیا کھوکر آئی ہوں
مت پوچھ کہ کیا لے کر آئی ہوں
ذوالفقار علی بھٹو ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم تھے اور وہ کسی قومی تحریک کے سربراہ نہیں تھے اس کے باوجود ان کی پھانسی سے جو بحران پیدا ہوئے وہ آج تک حل نہ ہوسکے۔ان کے مقابلے میں ماہ رنگ بلوچ ایک وحدت کی نمائندہ اور استعارہ ہیں اسلام آباد سے ان کی ناکام واپسی سے کیا نتائج مرتب ہوں گے۔حکمران اس سے آگاہ نہیں ہیں۔حالیہ تحریک نے آتش فشاں کی صورت اختیار کرلی ہے۔بلوچ عوام نے اسے جو پذیرائی بخشی ہے اس کی مثال موجود نہیں ہے۔حکمران غور کریں کہ قافلہ کے استقبال کے موقع پر کیا نعرے لگ رہے تھے۔
تحریکیں کسی بنتی ہیں اس کی چند مثالی پیش خدمت ہیں۔
1948ءمیں ریاست قلات کے الحاق کے بعد جب شہزادہ کریم بلوچ نے افغان بارڈر پر جا کر مزاحمت شروع کی تو شرکاءخاموش بیٹھے رہے۔اسی دوران ٹنڈو قیصر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے وہاں پر پہنچتے ہی آزاد بلوچستان کا نعرہ بلند کر دیا۔یہ میرقادر بخش نظامانی تھے۔
1973 میں بھٹونے بلوچستان پر فوج کشی کر دی تو میر علی احمد ٹالپر کوئٹہ تشریف لائے۔ملک انور کاسی مرحوم کے گھر واقع منو جان روڈ ہدہ پر اپوزیشن نے ایک جلسہ کا اہتمام کیا تھا اس سے خطاب کرتے ہوئے میر صاحب نے کہا کہ بھٹو اتنا ظلم کرو جو تم خود برداشت کر سکو۔اگر تم نے ظلم بند نہیں کیا تو میں اس پیرانہ سالی میں بھی پہاڑوں پر جاﺅں گا اور تم سے جنگ لڑوں گا۔اس تقریر کے کچھ عرصہ بعد ان کے صاحبزادہ میر محمد علی مریوں کے ساتھ پہاڑوں پر گئے۔میرمحمد علی کا تعلق حیدرآباد سے تھا لیکن انہوں نے بلوچوں کی مزاحمت میں عملی حصہ لیا۔میرمحمد علی آج تک باغی ہیں اور ان کی پرامن مزاحمت جاری ہے۔انہوں نے پہاڑوں سے اترنے کے بعد سرنڈر نہیں کیا کسی کے سامنے جھکے نہیں اوریقین طور پر بکے بھی نہیں ہوں گے۔بلوچوں کی نئی نسل نے انہیں”بابا“ کا لقب دے رکھا ہے۔
2005 میں جب نواب شہید نے وفاق کے سامنے اپنا چارٹر رکھا جس میں ساحل و وسائل کی واگزاری کی بات کی گئی تھی تو ڈیرہ بگٹی پر ہلہ بول دیا گیا جس کے نتیجے میں کئی درجن لوگ ہلاک ہوئے۔بعد ازاں نواب صاحب نے80سال کی عمر میں پہاڑوں پر جا کر مزاحمت کی راہ اختیار کی لیکن حکمرانوں نے میزائل مار کر اور بمباری کر کے انہیں شہید کر دیا۔جنرل پرویز مشرف کا خیال تھا کہ یہ معاملہ چند دنوں میں ختم ہو جائے گا لیکن نواب صاحب کی شہادت ایک ایسی تحریک بن چکی ہے جس کی بازگشت دریائے گومل سے کوہ باطل اور کوہ البرز تک سنائی دے رہی ہے۔ماہ رنگ کی مزاحمت اپنے اسلاف کی پیروی ہے اگر انہیں نقصان پہنچایا گیا تو ایسی صورتحال پیدا ہوگی کہ اسے کوئی بھی قابو نہیں کرسکے گا۔اس تحریک نے تمام سرداروں،وار لارڈ اور بالادست طبقے کو سرنگوں کر دیا ہے اور عوام کی واضح اکثریت یا غالب اکثریت اس تحریک کے ساتھ وابستہ ہو گئی ہے۔ماہ رنگ کا مقصد اسلام آباد جا کر دنیا کو بلوچستان کی صورتحال سے آگاہ کرنا تھا سو اس نے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ماہ رنگ خالی ہاتھ نہیں آئی ہے ان کے ہاتھوں میں بہت کچھ آگیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں