یونیورسٹی کیسے بورڈ آف گورنرز کی میٹنگ کے بغیر چل سکتی ہے،چیف جسٹس
اسلام آباد(صباح نیوز)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ یونیورسٹی کیسے بورڈ آف گورنرز کی میٹنگ کے بغیر چل سکتی ہے،اسراءیونیورسٹی حیدرآباد کے بورڈ آف گورنرز کو میٹنگ کرنے دیں، کیسے میٹنگ کو روکا جاسکتا ہے، یہ جمہوری عمل ہے۔ ہم نظرثانی کے بغیر اپنے ہی آرڈرکے خلاف نیا آرڈر جاری نہیں کرسکتے۔ کیا ہم وہ آردر معطل کریں جو پاس ہی نہیں ہوا۔ سندھ ہائی کورٹ کے سامنے کیس 19 فروری کو سماعت کے لئے مقرر ہے۔سند ھ ہائی کورٹ کا سنگل رکنی بینچ یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز کو اجلاس سے روکنے کے معاملہ پر بھی فیصلہ کرے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بورڈ میٹنگ ہونے کی صورت میں اس حوالہ سے سندھ ہائی کورٹ میں زیر التوادرخواست غیر مﺅثر ہوجائے گی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اورجسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے اسراءیونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز کے رکن پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیق ابڑو کی جانب سے یونیورسٹی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔درخواست سندھ ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ کی جانب سے یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس بلانے کے حوالہ سے جاری حکم امتناع کے خلاف دائر کی گئی تھی۔ درخواست میںایکٹنگ رجسٹراراور دیگر کے زریعہ یونیورسٹی کوفریق بنایا گیا تھا۔ درخواست گزار کی جانب سے سید غلام شبیر شاہ ایڈووکیٹ بطور وکیل پیش ہوئے جبکہ مدعا علیحان کی جانب سے سینئر وکیل مخدوم علی خان، سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد شاہد زبیری، حسین علی المانی اور ایان مصطفیٰ میمن پیش ہوئے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفار کیا کہ فیکٹس کیا ہیں۔ اس پر سید غلام شبیر شاہ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ چانسلر اوروائس چانسلر کے درمیان جھگڑا ہے۔ مخدوم علی خان نے بتایا کہ وہ ایکٹنگ رجسٹرا اسراءیونیورسٹی غلام رسول قاضی کی جانب سے پیش ہورہے ہیں۔ مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ کیس 19فروری کو سندھ ہائی کورٹ میں سماعت کے لئے مقررہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پانچ سوٹس کیس نے دائر کئے ہیں۔ اس پر بتایا گیا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر نذیز اشرف لغاری اوردیگر کی جانب سے دائر کئے گئے ہیں۔ سید غلام شبیر شاہ کا کہنا تھا کہ ان کے مﺅکل پروفیسر محمدرفیق ابڑوتین سال کے لئے 22اکتوبر2020کوبورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر تعینات ہوئے تھے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ اسداللہ قاضی چانسلر ہیں اور ڈاکٹر نذیر اشرف لغاری وائس چانسلر تھے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ترمیم اسراءیونیورسٹی ایکٹ میںلائی گئی ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ اسراءفاﺅنڈیشن سوسائٹی کے تحت اسراءیونیورسٹی کوکردیا گیا ہے اور اس چیرٹی کے زریعہ یونیورسٹی کو فنڈہوتا ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ فاﺅنڈیشن کا اب بھی وجود ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم نظرثانی کے بغیر اپنے ہی آرڈرکے خلاف نیا آرڈر جاری نہیں کرسکتے، سپریم کورٹ کاآرڈر فیلڈ میںہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ باپ نے بیٹے کو وائس چانسلر لگادیا ، کیادنیا میں کہیں ایساہوتا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر کا وکیل سید غلام شبیر شاہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ کے فیصلہ کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر ہوسکتی ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ نے اسراءیونیورسٹی ایکٹ کومعطل کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے ایک سال سے بورڈ آف گورنرز کی میٹنگ نہیں ہوئی۔ سید غلام شبیر شاہ کا کہنا تھا کہ چانسلر نے اپنے بیٹے کو وائش چانسلر لگایا ہوا ہے جو کہ دنیا میں کہیں نہیں ہوتا ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کیسے بورڈ آف گورنرز کی میٹنگ کے بغیر چل سکتی ہے، بورڈ آف گورنرز کو میٹنگ کرنے دیں، کیسے میٹنگ کو روکا جاسکتا ہے، یہ جمہوری عمل ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے وکیل سے استفسار کیا کہ بورڈ آف گورنرز منتخب کونا کرتا ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ احمد ولی اللہ قاضی اپنے بیٹے کو لے آئے جو چھ بورڈ آر گورنرز کے ممبرز تعینات کریں گے۔ سید شبیر احمد شاہ کا کہنا تھا کہ جو گزشتہ 20سال سے بورڈ آف گورنرز چل رہا ہے وہی بورڈ ہے انہوں نے ایک رات میں بیٹھ کر نیا بورڈ بنادیا۔ عابد شاہد زبیری کا کہنا تھا کہ وہ چانسلر غلام قادر قاضی اوروائس چانسلر احمد ولی اللہ قاضی کے وکیل ہیں۔ مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ غلام رسول قاضی ایکٹنگ رجسٹرار ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کو زیادہ فنڈنگ سعودی عرب سے آئی۔ چیف جسٹس نے سید غلام شبیرشاہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے 15اگست 2023کا آرڈر چیلنج کیا ہے یہ کیسے آپ کو متاثر کرتا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم ہدایت جاری کرسکتے ہیں کہ سنگل جج ان کی درخواست سن لیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا ہم وہ آردر معطل کریں جو پاس ہی نہیں ہوا۔ چیف جسٹس نے حکم لکھواتے ہوئے قراردیا کہ 15جون2023کو سندھ ہائی کورٹ کے سنگل رکنی بینچ نے بورڈ کو میٹنگ کرنے سے روکا تھا۔ 15ستمبر 2023کو سندھ ہائی کورٹکے ڈویژن بینچ نے فیصلہ دیا جس میں درخواست گزار کی شکایات کاازالہ نہیں کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ کو ہدایت کی تھی کہ زیر التوادرخواستوںپر ترجیحاً60روز میںفیصلہ کریں۔ سندھ ہائی کورٹ کے سامنے کیس 19 فروری کو سماعت کے لئے مقرر ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سند ھ ہائی کورٹ کا سنگل رکنی بینچ یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز کو اجلاس سے روکنے کے معاملہ پر بھی فیصلہ کرے ۔ عدالت نے مندرجہ بالا ہدایات کے ساتھ تمام فریقین کی رضامندی سے درخواستیں نمٹادیں۔ جبکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اگر بورڈمیٹنگ ہو جاتی ہے تو پھر اس حوالہ سے سندھ ہائی کورٹ میں زیر التوا اپیل غیر مﺅثر ہوجائے گی۔ ZS


