بلوچستان میں ہمیشہ مخلوط حکومتیں ہی بنی ہیں، سیاسی جماعتیں کچھ نہ کچھ نمبر آف گیمز رکھتی ہیں، جام کمال

بیلا (یو این اے) سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان مسلم لیگ ن کے نامزد حلقہ این اے 257 اور پی بی 22 سے کامیاب اامیدوار جام کمال خان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ہمیشہ مخلوط حکومتیں ہی بنی ہیں، حکومت بنانے کیلئے 33 نشستوں کا نمبر آف ہوتا ہے جو کسی ایک جماعت کے پاس انفرادی طور پر نہیں ہوتا جام کمال خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ تین چار پارٹیاں مل کر صوبے میں حکومت بنا سکتی ہیں پیپلز پارٹی جمعیت علمائے اسلام اور مسلم لیگ ن یہ تینوں جماعتیں بلوچستان میں مخلوط حکومت بنانے کیلئے نمبرز آف گیمز بنا سکتی ہیں باقی جماعتیں بھی کچھ نہ کچھ نمبر آف گیمز رکھتی ہیں اگلے چند روز میں حکومت بنانے کے حوالے سے تمام جماعتوں کی حکمت عملی اور منصوبہ بندی سامنے آئے گی انہوں نے کہا کہ یقینا ہر پارٹی یہی چاہتی ہے کہ اس کی حکومت بنے لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ حکومت مخلوط ہی بنے گی ابھی سب جماعتوں اور کامیاب امیدواروں کا موقف بھی سامنے آئے گا جام کمال خان نے صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ قومی اسمبلی بہت بڑے حلقے پر مشتمل ہے قومی اسمبلی کی بھی اپنی ایک حیثیت ہے اور صوبائی اسمبلی بھی اپنی ایک الگ اہمیت رکھتی ہے قومی اسمبلی کا حلقہ آواران حب اور لسبیلہ پر مشتمل ہے ہر امیدوار کا اپنا ایک ہدف ہوتا ہے صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی میں بہت بڑا اور واضح فرق ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ الحمدللہ آوران حب اور لسبیلہ کے عوام نے محبت اللہ نے پھر عوام نے کامیابی دی دونوں نشستوں پر کامیابی سے ہمکنار کرنا عوام کی محبت کا ثمر ہے دوستوں سے مشورے کے بعد طے کریں گے کہ کون سی نشست سے دستبردار ہوں اس حوالے سے پارٹی کا فیصلہ بھی مقدم ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں