بلوچستان، 155سرکاری ایمبولینسز میں سے 34خراب
کوئٹہ:بلوچستان بھر میں کل سرکاری ایمبولینسز کی تعداد155ہے جن میں سے 34خراب ہیں تفصیلات کے مطابق بارہ اعشاریہ تین چار ملین آبادی کا مسکن رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان مسائل کی آماجگاہ بن گیا ہیں ِصحت کی سہولیات کی عدم فراہمی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے صوبے میں ہسپتالوں کی حالات ابتر ہے، ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے ساتھ ساتھ مریضوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے کیلئے ایمبولینسزکی تعداد بھی بے حد کم ہے جس کی وجہ سے اکثر اوقات ایمبولینس نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک حادثات میں زخمی ہونے والے افراد ہسپتالوں تک پہنچنے سے قبل اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں۔دوسری طرف دوران زچگی اموات ا یشیامیں بلوچستان پہلے نمبر پر ہے اس کی ایک بڑی وجہ حاملہ خواتین دوردراز علاقوں کی خواتین کا ہسپتالوں تک نہ پہنچناہے۔واضع رہے بلوچستان میں 89لاکھ سے زائد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فقدان ہے، لوگ دیہی علاقوں سے زچگی کیلئے شہر آتے ہیں لیکن شہر تک آنے کیلئے سرکاری ایمبولینس ناپید ہے اسی وجہ سے دوران زچگی اموات کی شرح زیادہ ہے۔سابقہ دور حکومت اور موجودہ حکومت نے بھی اپنی ترجیحات میں صحت اور تعلیم کوسرفہرست رکھا ہے لیکن سرکاری اعداد و شمار اس کی نفی کرتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑا گیا ہے،با خبر ذرائع کے مطابق بلوچستان میں کل سرکاری ایمبولینسز کی تعداد155ہے اور ان میں سے 34خراب ہیں خراب ایمبولینسز کی مرمت کیلئے حکومت کو خط لکھا گیا ہے ذرائع نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ بلوچستان میں سو سے ڈیڑھ سو تک ایمبولینسوں کی ضرورت ہے ویسے بلوچستان حکومت کی اقتصادی حالات ایسی نہیں ہے کہ وہ ایک ساتھ مطلوبہ ایمبولینسز فراہم کرے۔


