ہمیں نئی ایجادات، تخلیقی اور تحقیقی مواد سے استفادہ کرنا ہوگا، گورنربلوچستان

کوئٹہ (آن لائن) گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے کہا کہ دنیا بڑی تیزی سے اپنی کروٹیں بدل رہی ہے۔ آئندہ دس پندرہ برسوں میں ایک جانب اگر کئی شعبے معدوم ہونے والے ہیں تو دوسری طرف نئے شعبے وجود میں بھی آ رہے ہیں۔ ایسی صورت میں نئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ماہرین کی فکری رہنمائی اور مدد سے ہی ایک جامع حکمت عملی بنائی جاسکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس ڈاکٹر خالد حفیظ سے گورنر ہاو¿س کوئٹہ میں ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے کہا کہ نت نئی ایجادات بالخصوص انٹرنیٹ پر دستیاب علمی، تخلیقی اور تحقیقی مواد سے استفادہ کر کے ہم عوامی سطح پر بھی جہالت کے اندھیروں سے نکل کر علم و شعور کی روشنی کی جانب اپنے قلم و قدم کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام سائنٹسٹ اور ریسرچرز پر زور دیا کہ اکیسویں صدی میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انسانی زندگی کا لازمی جز بن چکا ہے جسکے بغیر کامیاب زندگی گزارنا ممکن ہی نہیں ہے۔ ارتقاءاور ترقی کے طویل سفر پتھر کے دور سے شروع ہو کر اب انسان آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور روبوٹک سائنس کے دور میں داخل ہو چکا ہے جو بھی قوم پل پل بدلتی دنیا کے جدید تقاضوں سے ہمدم اور ہمقدم ہو جانے کا اہتمام نہیں کرتی یا نئی تبدیلیاں نہیں اپناتی وہ مسقبل قریب میں کئی خطرات اور خدشات سے دو چار ہو جائیگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں