الیکشن سے قبل ہمارے خلاف مہم چلائی گئی، بی این پی کے رہنما کا انکشاف
خاران (نامہ نگار)بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما و سابق ایم پی اے خاران ثناءبلوچ نے کہاکہ الیکشن سے قبل منظم منصوبے کے تحت ہمارے خلاف مہم چلائی گئی اور ہمیں ہرانے کیلئے مختلف طریقے سے حربے استعمال کئے گئے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے رہائشگاہ خاران میں زمیندار ایکشن کمیٹی کے صدر و دیگر پارٹی رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ثناءبلوچ نے کہاکہ موجودہ مسلط شدہ بلوچستان اسمبلی نے آتے ہی زمینداروں پر شب خون حملہ کیا جو بلوچستان اور خاران کے زمینداروں کے ساتھ ظلم ہے جس کی کسی صورت اجازت نہیں دینگے انہوں نے کہاکہ میں نے اپنے دور اقتدار میں رخشان یونیورسٹی اور رخشان میڈیکل کالج کی قرارداد اسمبلی میں پیش کی اب رخشان یونیورسٹی اور رخشان میڈیکل کالج کو منصوبے کے تحت خاران سے شفٹ کیاجارہا ہے موجودہ نمائندے کیوں اس اہم مسئلہ پر اسمبلی فورم پر آواز نہیں ا±ٹھارہے ہیں کس مجبور کے تحت خاموش ہیں بلوچستان نیشنل پارٹی اور خاران کے عوام اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کریگی اور کسی بھی طرح کے تحریک چلانے سے گریز نہیں کریگی انہوں نے کہاکہ الیکشن مہم کے دوران سوچے سمجھے سازش کے تحت ہمارے پولنگ اسٹیشنز پر حملے کیئے گئے جس سے ہمارے ووٹرز کو منتشر کرنا تھا ہمیں خدشہ ہے کہ حملے ہمیں ہرانے اور دھمکانے کیلئے کئے گئے بنے والے بلوچستان حکومت خاران میں الیکشن کے دوران حملوں پر تحقیقاتی کمیٹی بنائیں تاکہ ہمارے خدشہ دور ہوسکیں،انہوں نے مزید کہاکہ مقتدر قوتوں اور سابق نگران حکومت کی جانب سے ہمارے ترقیاتی اسکیمات کی فنڈز ر±وکے گئے اور ہمارے خلاف سوشل میڈیا میں کرپشن کے بے بنیاد مہم چلایا گیا تاکہ بلوچ عوام میں بلوچستان نیشنل پارٹی کیلئے نفرت پیدا ہوسکے جس کیلئے ہم ہر وقت تیار رہے ہیں سردار اختر مینگل اور بی این پی کو کوئی بھی طاقت بلوچ عوام کی دلوں سے نکل نہیں سکتا۔


