خفیہ معاہدوں کے ذریعے بلوچستان کے وسائل کو کوڑیوں کے دام بیچا جارہا ہے، این ڈی پی
کوئٹہ (پ ر) نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی بارکھان زون کا سینئر باڈی اجلاس منعقد ہوا جس میں مرکزی فنانس سیکرٹری ثناءبلوچ بطور مہمان خاص شریک ہوئے۔ اجلاس کا آغاز شہدا کے احترام میں خاموشی سے کیا گیا جس کے بعد تنظیمی امور، سیاسی صورتحال اور آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے زیر بحث رہے۔ اجلاس میں مختلف ایجنڈوں کے دوران شریک ممبران نے سیر حاصل بحث کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ قوم کو سائنسی بنیاد پر استوار کرنے کی ضرورت ہے جس کی مضبوط بنیاد کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی جدوجہد کا ڈھانچہ ادارہ جاتی بنیاد پر تشکیل دی جائے، جو نظریاتی حوالے سے پختہ ہو، جس میں قدامت پرستی، خود نمائی، روایت پسندی اور شخصیت پرستی جیسے عنصر کا خاتمہ ہو اور ادارے جمود کو توڑ کر فکری معذوری کا خاتمہ کریں جس کے لئے لازم ہے کہ جمہوری طرز سیاست کا احترام کیا جائے۔ اجلاس میں مزید بحث کرتے ہوئے ممبران نے سیاسی صورتحال پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں میگا پراجیکٹس کے نام پر بلوچ ساحل و وسائل پر قبضہ کیا جارہا ہے۔ ریاستی پشت پناہی میں انسٹیٹیوشنلائیزڈ طریقے سے خفیہ معاہدوں کے ذریعے بلوچستان کے روشن مستقبل کو کوڑیوں کے دام بیچا جا رہا ہے جس کے لئے تمام اداروں بشمول پارلیمنٹ اور جوڈیشلی کو مہرے کی طرح استعمال کیا جارہا ہے۔ پی پی ایل جیسے ادارے علاقائی ویلفیئر جیسے معاملات اور نواب اکبر خان بگٹی کے زمانے سے طے شدہ معاہدات کو ٹھوکر مار کر وہاں کے لوکل عوام کی حق تلفی کررہے ہیں۔ سی پیک جیسے پراجیکٹ اور ڈیپ سی پورٹ گوادر کی تقدیر بدل کر اسے دنیا بدترین ناقابل رہائش شہر بنانے پر تلے ہوئے ہیں جبکہ ان حالات میں بلوچ نمائندہ پارٹی کی خلا پر کرنے کی وسعت کسی ادارے میں نظر نہیں آتی۔ اجلاس کے آخری ایجنڈے میں آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے مختلف فیصلے کرکے نئی زونل آرگنائزنگ باڈی تشکیل دے دی گئی جس میں شریف بلوچ بطور آرگنائزر، ہاشم بلوچ ڈپٹی آرگنائزر، خالد بلوچ سیکرٹری انفارمیشن، سلال بلوچ سیکرٹری فنانس جبکہ داﺅد جان، گل باران اور صمد بلوچ اعزازی ممبر منتخب ہوئے۔


