چمن میں اشیا خورونوش کی قیمتیں بے قابو، دکاندار من مانے نرخ وصول کرنے لگے
چمن (نمائندہ انتخاب) چمن میں بڑے گوشت کی فی کلو قیمت میں 100 روپے تک اضافہ، اس پہلے انتظامیہ کی طرف سے روزہ مرہ اشیاءکی قیمتوں کا تعین کیا گیا، جس میں بڑے گوشت کی فی کلو قیمت بغیر ہڈی کے 950 روپے مقرر کی گئی لیکن قصاب مذکورہ ریٹ پرگوشت دینے کو تیار نہیں وہ 1050 روپے پر فروخت کررہے ہیں، ایک قصاب نے نام نہ بتانے کی شرط پر انتخاب نیوز کو بتایا کہ چمن میں گوشت کی قیمتیں اس وقت تک کم نہیں ہوں گی جب تک اس کی افغانستان اسمگلنگ بند نہ ہوجائے، قصاب کے مطابق کہ ہر روز سیکڑوں جانور خاردار تار بچھانے کے باوجود افغانستان اسمگل ہورہے ہیں اگر زندہ جانوروں کی افغانستان اسمگلنگ پر پابندی نہیں لگائی گئی تو گوشت کی قیمتیوں میں 15 فیصد مزید اضافہ ہوگا۔ شہریوں نے نو منتخب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی سے مطالبہ کیا کہ صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ماہ مقدس میں عوام پر رحم کیا جائے۔ علاوہ ازیں چمن میں ماہ رمضان شروع ہوتے ہی ذخیرہ اندوز اور گرانفروش متحرک ہوگئے، بازار میں پیاز فی کلو 300،ٹماٹر 150 ، آلو 60 روپے کلو، چینی 165 روپے کلو، بڑا گوشت ہزار روپے کلو، چھوٹا گوشت 1850 روپے کلو، گھی 350 روپے کلو، چاول330 روپے کلو، مرغی کا گوشت 650 روپے کلو، مٹر 180 روپے کلو و دیگر سبزیوں کے نرخوں پر بھی کوئی کنٹرول نہیں ہے، ضلعی انتظامیہ نے تاجروں اور دکانداروں سے میٹنگ میں سرکاری نرخ نامہ جاری کیا جس پر عملدرآمد کیلئے کوئی تیار نہیں، نہ ہی مقدس مہینے کا خیال رکھتے ہیں، چمن میں روزہ دار دکانداروں کے رحم و کرم پر ہیں۔


