”عہدہ نہ ہونے کے باوجود فیصلے نواز شریف کرتے ہیں؟”پنجاب حکومت پر سوالات کھڑے ہونے لگے

لاہور(انتخاب نیوز)گزشتہ روز سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں قائد (ن) لیگ نواز شریف آئی ایم ایف کے مطالبات کے بارے میں بولے اور کچھ برہمی کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر بجلی، گیس اور کتنی مہنگی ہو گی؟ آئی ایم ایف کے مطالبات پورے کرتے کرتے عوام کے صبر کو کب تک آزمائیں گے؟قائد ن لیگ کا کہنا تھا کہ سب حکومتوں کو چاہیے فوری طور پر اپنے اخراجات کم کر کے عوام کو سہولیات دینے پر کام کریں، یہ بات بھی درست ہے کہ گردشی قرضوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جان چھڑانا ہو گی ورنہ یہ ملک کو کھا جائیں گے، کسانوں، کاشتکاروں اور دیگر کارروبار کو سہولیات ملنی چاہئیں۔سابق وزیراعظم نے ہدایت کی کہ چھوٹے کسانوں کے مسائل حل کرنے پر فوکس کریں، ان کو مہنگی بجلی ملے گی تو کیا بچے گا؟ اس پر سوچنا ہوگا، چھوٹے کسانوں کے مہنگی بجلی کے مسئلے کا جلد از جلد حل نکالیں، حکومت پنجاب کسانوں کو سولر پینل دینے پر پیسے خرچ کرے۔اس اجلاس کے بعد بہت سے سوالوں نے جنم لینا شروع کر دیاجیسے کہ ” نواز شریف، جوکہ صرف ایک رکن قومی اسمبلی ہیں، حکومت پنجاب کے اجلاسوں کی صدارت اور ہدایات جاری کیسے کر سکتے ہیں؟”عمومی رائے یہی ہے کہ صوبے میں کوئی سرکاری عہدہ نہ ہونے کے باوجود تمام بڑے فیصلے نواز شریف ہی کرتے ہیں۔ان کی بیٹی اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس رائے کو مزید پختہ کردیا، جب ا±ن سے سوال کیا گیا کہ ضرورت مندوں میں تقسیم ہونے والے رمضان ریلیف پیکیج کے تھیلوں پر نواز شریف کا چہرہ چسپاں کیوں ہے تو جواب میں مریم نواز نے کہا کہ ’کیونکہ یہ نواز شریف کی حکومت ہے‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں