صدارتی نظام میں ہی ملک دولخت ہوا اور نواب بگٹی کو قتل کیاگیا، مشاہداللہ خان

اسلام آبادچیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت اجلاس میں ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ کی گونج سے اپوزیشن سیخ پا ہوگئی،مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ پلے نہیں دھیلا کرتی میلا میلا،چھ وزیر اعظم بنے گھوم رہے ہیں،پہلے گھر کو تو ٹھیک کرو۔اس ملک میں بار بار صدارتی نظام نہیں آیا ہے جس سے ملک کے ٹکڑے ٹکڑے ہوئے،لوگ تاریخ نہیں پڑھتے۔ جب ملک دو لخت ہوا تو ملک میں صدارتی نظام تھا،کیا ملک دو لخت ہوا اس وقت صدارتی نظام تھا،جنرل ایوب ضیا الحق اور مشرف کے دور میں صدارتی نظام رہا،تاریخ سے نا بلد لوگ صدارتی نظام کی بات کر رہے ہیں،آج لیڈر آف ہاوس کہہ رہے ہیں ملک جمہوریت ہے،ہمیں درس دے رہے ہیں شہزاد وسیم اس وقت مشرف کے وزیر تھے،مشرف نے کراچی میں قتل عام کیا اکبر بگٹی کو قتل کیا گیا،یہ سارے کام صدارتی نظام میں ہوئے،کسی میں جرات نہیں صدارتی نظام لانے کی یا اٹھارہویں ترمیم ختم کرنے کی،یہ حکومت چل کیسے رہی ہے جس کے وزرا روز جھوٹ بولتے ہیں،علی زیدی اور احتساب اکبر آجکل پریس کانفرنسیں کر رہے ہیں،ڈبو صاحب بھی بیان دینے رہے پی آئی اے میں بھائی بھرتی کرائے،ایک بھائی بھی کی بھرتی نکل آئے سینیٹ سے مستعفی ہوجاؤں گا،پی آئے اے کو آپ لوگوں نے زمین بوس کر دیا،ان سے ہینڈل کچھ نہیں ہو رہا ہے اس لئے صدارتی نظام کی باتیں کی جارہی ہیں،پلے نہیں دھیلا کرتی میلا میلا،چھ وزیر اعظم بنے گھوم رہے ہیں،پہلے گھر کو تو ٹھیک کرو،ایسی ایسی کرپشن ہو رہی ہے کچھ عرصے بعد پتہ چلے گا،بہت سے لوگ جیل میں ہونگے،یہ ایمپائر کی انگلی پر اچھل اچھل کر آئے تھے،اب انگلی بھی نکلنے والی ہے،قائد ایوان کا انگلی کے لفظ پر احتجاج کیا اور چیئرمین سینیٹ سے الفاظ حذف کرانے کا مطالبہ کرتے رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں