صوبائی حکومت اپوزیشن کو دشمن سمجھتی ہے، تمام فیصلے اسمبلی کو اعتماد میں لیکر کئے جائیں،حزب اختلاف
کوئٹہ:بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اپوزیشن کو دشمن سمجھتی ہے اپوزیشن ارکان بھی صوبے کے منتخب نمائندے ہیں بلوچستان میں معدنیات سمیت ساحل وسائل کے تمام فیصلے اسمبلی کو اعتماد میں لیکر کئے جائیں، صوبے میں کورونا وائرس کے بچاؤ کے لئے اب تک وفاقی، صوبے اور ڈونر ایجنسیوں کی جانب سے دی جانے والی رقم کی تفصیلات فراہم کی جائیں، سیندک معاہدے کی کن شرائط کی بنیاد پر لیز میں توسیع کی گئی ہے اس کا حکومت کو اور نہ ہی اپوزیشن کو علم ہے، یہ بات انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی، بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعہ کے روز ایک گھنٹہ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر سرداربابرخان موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا۔ جمعیت علماء اسلام کے میر یونس عزیز زہری نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی وباء کے دوران طبی عملے کو17کروڑ روپے کے جعلی اور زائد المعیاد آلات فراہم کئے گئے ہمارے پاس اس حوالے سے ثبوت اور شواہد موجود ہیں انہوں نے سیندک پراجیکٹ سے متعلق اسمبلی کی قائم کمیٹی پر عدم فعالیت پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ15اکتوبر2018ء کے اجلاس میں پارلیمانی کمیٹی ہوئی تھی کمیٹی کے اراکین میں اپوزیشن کے تین اور حکومتی بینچوں سے پانچ اراکین کو شامل کیا گیا تاہم ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک اس کمیٹی کے چیئر مین تک کا انتخاب بھی عمل میں نہیں لایاگیاانہوں نے کہا کہ مذکورہ کمیٹی کا صرف ایک اجلاس منعقد ہواجس میں حکومت کی جانب سے صرف میر عارف محمد حسنی شریک ہوئے اس اجلاس میں چیئر مین کے انتخاب کے معاملات طے نہیں ہوسکے اس کے بعد سے اب تک کمیٹی کا کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوا۔ انہوں نے سیندک منصوبے کی لیز میں پندرہ سال کی توسیع پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ کن شرائط کی بنیاد پر اس لیز میں توسیع کی گئی ہے اس کا حکومت کو اور نہ ہی اپوزیشن کو علم ہے محکمہ معدنیات کا قلمدان وزیراعلیٰ کے پاس ہے انہوں نے ایک ہاتھ سے سمری خود موو کی اور دوسرے ہاتھ سے خود اس کی منظوری دی انہوں نے کہا کہ لیز میں توسیع سے متعلق محکمہ خزانہ اور لاء ڈیپارٹمنٹ نے اختلافی نوٹ بھی لکھا ہے جس پر ہم انہیں سراہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیندک منصوبے کی لیز میں توسیع کا معاملہ اسمبلی میں لایا جائے اور ایوان کو تمام تفصیلات سے آگاہ کیا جائے انہوں نے سیندک سے متعلق قائم پارلیمانی کمیٹی کی فعالیت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جلد سے جلد چیئر مین کا انتخاب کرکے کمیٹی کو فعال کیا جائے تاکہ توسیع کے معاملے کو دیکھا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ساحل ووسائل کوڑیوں کے دام فروخت نہیں ہونے دیں گے۔بی این پی کے اخترحسین لانگو نے کہاکہ ٹڈی دل حملوں نے بلوچستان کی زراعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے حکومت کی جانب سے اب تک ان نقصانات کے ازالے کے لئے کوئی پالیسی ہی سامنے نہیں آئی تاکہ زمینداروں کو دوبارہ ان کے پیروں پر کھڑا کیا جاسکے انہوں نے بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کی جانب ایوان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی سال سے کیسکو کی جانب سے بجلی کے نظام میں کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے اوور لوڈ ہوکر ٹرانسفارمرز خراب ہورہے ہیں اور لوگ کئی دنوں تک بجلی سے محروم رہتے ہیں انہوں نے کہا کہ شیخ ماندہ میں قائم ورکشاپ میں بلوچستان کے اکثر اضلاع سے خراب ٹرانسفارمرز مرمت کے لئے لائے جاتے ہیں وہاں پندرہ پندرہ بیس بیس روز تک ٹرانسفامرز مرمت کے لئے پڑے رہتے ہیں انہوں نے بجلی کے نئے فیڈرز کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اوور لوڈ فیڈرز کو تقسیم کیا جائے تاکہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جاسکے صوبائی وزیر خزانہ کو چاہئے کہ ٹف ٹائل، روڈوں کی اکھاڑ پچھاڑ اور کوئٹہ پیکج کے نام پر خطیر رقم ضائع کرنے کی بجائے اس رقم سے کیسکو کو واجبات کی ادائیگی کریں تاکہ عوام کو ریلیف دیا جاسکے۔ انہوں نے ایم ایس ڈی کو مسائل کا جڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ادویات کی پرچیزنگ کا اختیار نچلی سطح پر منتقل کرے انہوں نے سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کی عدم فراہمی پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ سابق وفاقی وزیر آیت اللہ درانی مرحوم جب فاطمہ جنا ح ہسپتال کے آئی سی یو میں زیر علاج تھے تو اس وقت وہاں وینٹی لیٹر کو آپریٹ کرنے کے لئے عملہ موجود نہیں تھا مریضوں کے عزیز و اقارب اور تیماردار خود مریضوں کی دیکھ بھال کررہے ہیں جبکہ ڈاکٹرز میسجر کے ذریعے مریضوں کو ادویات تجویز کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ آکسیجن سلینڈرز پر لوگوں میں کھینچا تانی ہورہی ہے 2012ء میں خریدے گئے طبی آلات ایکسپائر ہونے کے بعد ڈاکٹروں کو فراہم کئے گئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ خط غربت سے نچلی زندگی گزار رہے ہیں ایسے میں ان کے لئے علاج معالجے کے اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں انہوں نے زرعی اجناس کی سمگلنگ کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں ممالک کی پالیسی یہ ہے کہ جب بھی مقامی پیداوار تیار ہوتی ہے تو امپورٹ روک دی جاتی ہے لیکن ہمارے ہاں اس کے الٹ ہورہا ہے جب ہماری مقامی فصل تیار ہوتی ہے تو امپورٹ کی بھی اجازت دے دی جاتی ہے جس سے زمینداروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہوں نے اسمبلی کی قرار دادوں پر عملدرآمد نہ ہونے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کی اہمیت اورافادیت سپیکر کے ہاتھ میں ہے ہاؤس کی ایک عملدرآمد کمیٹی ہے کہ ہاؤس سے جاری احکامات اور قراردادوں پر کس حد تک عملدرآمد ہورہاہے وفاقی وصوبائی سطح کے قراردادیں جو بلوچستان اسمبلی سے پاس ہوئی ہیں ان کا فالو اپ دیکھا جائے کہ ان پر کس قدر عملدرآمد ہوا ہے انہوں نے کہاکہ اگر حکومت کی جانب سے سیندک ودیگر معاملے کو سنجیدہ لیاجاتا تو آج یہ معاملہ دوبارہ زیر بحث ہی نہ آتا ایک دستاویز کو لاکر حکومت کے سامنے رکھاگیا اور اس نے دستخط کرکے ایک بارپھر سیندک پروجیکٹ کو 15سال کے من وعن ان کے حوالے کردیا،سیندک پروجیکٹ کے قوانین کے مطابق پروجیکٹ پردن کی روشنی میں مائننگ کی جاسکتی ہے رات کی تاریکی میں مائننگ کرنے کاکوئی قانون موجود نہیں مگر سیندک میں دن رات مائننگ ہوتی رہی ہے یہ بلوچستان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے موجودہ اور سابقہ حکومتوں نے کمپنی سے کبھی اس بارے میں پوچھا ہی نہیں انہیں فری ہینڈ دے دیا گیا. کہ وہ جتنی چاہیں معدنیات نکال کر لے جائیں انہوں نے کہا کہ سونے اور چاندی کے علاوہ سیندک میں ایسی بھی معدنیات موجود ہیں جن کی قیمت سونے اور چاندی سے بہت زیادہ ہے آج تک کسی نے ان سے کچھ پوچھا نہ ہی ہمارے پاس کوئی تفصیل ہے کہ سیندک سے کس مقدار میں معدنیات نکالی گئی ہیں انہوں نے کہا کہ مذکورہ کمپنی کی ذمہ داری تھی کہ وہ مقامی افراد کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات اٹھاتی لیکن آج تک کمپنی نے علاقے کے عوام کے لئے کچھ نہیں کیا۔اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ چار ماہ قبل صوبے میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کی فراہمی کی نشاندہی کی گئی تھی لیکن آج تک اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مارچ اور اپریل کے مہینوں میں بہت سے لوگ بیمار ہوئے انہوں نے خود ادویات خرید کر اپنا علاج کرایا حکومت کی جانب سے انہیں ایک پینا ڈول کی گولی تک فراہم نہیں کی گئی بلوچستان میں کورونا وائرس کی روک تھام صرف اخباری بیانات تک محدود ہے اسمبلی کو بتایا جائے کہ کورونا وائرس کی مد میں اب تک صوبائی حکومت نے اپنے وسائل سے کتنی رقم کہاں خرچ کی وفاق سے صوبے کو کیا کچھ ملا، این ڈی ایم اے نے پی ڈی ایم اے کو کیا کچھ دیا ڈونرز ایجنسیز نے جو امداد دی وہ کہاں خرچ ہوئی۔ جے یوآئی کے عبدالواحد صدیقی نے کہا کہ حکومت نے اب تک ٹڈی دل کی روک تھام کے لئے کچھ نہیں کیا تین ماہ پہلے یقین دہانی تو کرائی گئی۔لیکن آج تک اقدامات نہیں ہوئے اب وزیر زراعت یا محکمہ زراعت کے حکام دورے کرکے کیا کرسکتے ہیں یہ کام پیشگی حکمت عملی کے ہیں حکومت نے حکمت عملی نہیں بنائی انہوں نے کہا کہ ضلع پشین میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے ساڑھے چار کروڑ روپے دیئے گئے بتایا جائے کہ یہ پیسے کہاں خرچ ہوئے؟ صوبے میں اس ماحول میں بھی لوٹ مار کی جارہی ہے زراعت اور معدنیات کے لئے کوئی سنجیدہ پالیسی نہیں ہے بجلی کے وولٹیج کم ہونے سے برقی آلات جل رہے ہیں انہوں نے کہا کہ سیندک میں خلاف قانون چوبیس گھنٹے معدنیات نکالی جارہی ہیں حکومت مائننگ کے شعبے کو بہتر کرنے کے لئے سنجیدہ نہیں ہے اگر حکومت سرپرستی کرے تو صوبے میں مائننگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے حکومت اٹھارہویں ترمیم کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے اختیارات کو صحیح طرح استعمال کرے اور مربوط فیصلے کرے اپوزیشن ان کا ساتھ دے۔ بی این پی کی رکن شکیلہ نویددہوار نے کہا کہ سیندک معاہدے میں پندرہ سال کی توسیع بلوچستان کے وسائل پر دن دیہاڑے ڈکیتی ہے سیندک اورریکوڈک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے جبکہ ان دونوں علاقوں میں قوانین کی بھی خلاف ورزی کی جارہی ہے آج تک اس بات کی جانچ پڑتال نہیں کی گئی کہ غیر ملکی کمپنیوں نے کتنا کچھ نکالا اور وہ کہاں گیا سیندک معاہدے کے ٹی اوآر آج تک سامنے نہیں آئے صوبائی حکومت کی جانب سے ایم او یو پر آمادگی ظاہر کرنا بلوچستان پر کالا داغ ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے حاجی نواز کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان میں پورا سسٹم یکطرفہ چل رہا ہے حکومتی بینچز کے لوگ اپوزیشن کو عوامی نمائندہ نہیں سمجھتے اور ہماری رائے کو اہمیت نہیں دیتے صوبے کے حقوق کی بات کرنے والوں کو غدار قرار دیا جاتا ہے سیندک لیز کے معاملے پر فوری طو رپر ایوان میں کمیٹی بنائی جائے جو اس تمام معاملے کی تحقیقات کرے انہوں نے کہا کہ غیر ضروری مد میں خرچ ہونے والے پیسوں کو اگر مائننگ کے شعبے کی بہتری کے لئے خرچ کیا جائے تو صوبہ اس شعبے میں خود مختار ہوسکتا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو مفت بجلی فراہم کی جائے اگر سنجیدہ اقدامات نہیں ہوئے اور اپوزیشن کو دشمن تصور کیاجاتا رہا تو بلوچستان کے مسائل کم ہونے کی بجائے مزید بڑھیں گے انہوں نے کہا کہ زائد المعیاد ادویات اور اشیاء خرید کر انہیں بعد میں ایکسپائر ظاہر کیا جاتا ہے اور اس مد میں کروڑوں روپے کی کرپشن ہوتی ہے جب وزیراعلیٰ حکومت ٹویٹر اور70واٹس ایپ گروپس میں چلائیں گے تو صوبے کے مسائل کیسے حل ہوں گے جو وزراء کام کرنا چاہتے ہیں ان کے بھی ہاتھ روک دیئے جاتے ہیں۔ جے یوآئی کے مولوی نوراللہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ جب کوئٹہ میں بجلی نہیں ہے تو اندرون بلوچستان کیا صورتحال ہوگی اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے ہمارے صوبے میں زراعت کا دارومدار ٹیوب ویلوں پر ہے اور صورتحال یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں تمام فیڈروں کو پانچ پانچ برانچز میں تقسیم کیاگیا ہے اور ہر برانچ سے کئی کئی دن کے بعد بمشکل چھ گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے جس سے زرعی شعبہ تباہ ہو کر رہ گیا ہے کافی عرصہ قبل میرے حلقے میں بجلی کے کھمبے گر گئے تھے میں نے خود ایک وفد کے ہمراہ کیسکو حکام سے ملاقات کرکے انہیں صورتحال سے آگاہ کیا لیکن آج تک ان کھمبوں کی مرمت نہیں کی گئی انہوں نے کہا کہ جب ہمارے صوبے میں مختلف پھلوں اور سبزیوں کی تیاری کے موقع پر ہمسایہ ممالک سے یہ تمام چیزیں منگوائی جاتی ہیں جس سے ہمارے زمیندار شدید مالی مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں انہوں نے کہا کہ ژوب بوستان ریلوے لائن 1930ء میں بچھائی گئی تھی جس سے ہمارے لوگوں کو بڑا فائدہ ہوتا تھا مگر اس ریلوے پٹڑی کو اکھاڑ دیا گیا میں اس حوالے سے ایک گزشتہ سیشن میں قرار داد لانا چاہتا تھاجو نہ لاسکا انہوں نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ ریلوے لائن کو فوری طو رپر بحال کیا جائے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء بلوچ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ترقی کا کوئی مخالف نہیں ہے ہم صوبے کی ترقی اور یہاں کے ساحل اور وسائل کو اصولوں کے مطابق اپنے عوام کے لئے استعمال میں لانا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو قدرتی معدنیات، طویل ساحل اور وسائل سے نوازا ہے ہماری آبادی جو بمشکل سوا کروڑ کے قریب ہوگی اس کے اسی فیصد عوام پانی سے محروم ہیں ہمارے تمام مسائل کی وجہ شفافیت نہ ہونا ہے بلوچستان کے وسائل اور معدنیات کو بروئے کا ر لانے کے لئے فیصلے اس ایوان میں ہونے چاہئیں اگر بلوچستان کے منتخب عوامی نمائندوں کو شامل کئے بغیر ایسے فیصلے کئے جاتے ہیں تو کل ان پر عملدرآمد کی ضمانت کون دے گا اخبارات کے ذریعے ایسی اطلاعات آرہی ہیں کہ سیندک منصوبے کی لیز میں پندرہ سال کی توسیع کردی گئی ہے جبکہ کچھ حلقے کچھ اور کہہ رہے ہیں یہ ایوان صوبے کے منتخب نمائندوں کا ہے اس حوالے سے حکومت کی جانب سے ہمیں معلومات دی جائیں انہوں نے کہا کہ کوئی نہیں چاہتا کہ اس کے بچے تعلیم، صحت سمیت دیگر سہولیات سے محروم رہیں کوئی جماعت، کوئی سیاسی رہنماء بھی ایسا نہیں چاہتا کہ صرف اتنا کہتے ہیں کہ معدنی منصوبوں میں شفافیت لائی جائے عوامی نمائندوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ سیندک پراجیکٹ سے بلوچستان کو کیا ملے گا سیندک کی آمدنی سے سی آر سی کی مد میں صوبائی حکومت کو اب تک کتنی آمدن ہوئی اور وہ کہاں خرچ کئے گئے ملنے والی رقم کس اکاؤنٹ میں رکھی گئی ہے بد قسمتی سے چاغی میں ایک پولی ٹیکنک کا ادارہ تک نہیں اس سال بجٹ میں ایک پولی ٹیکنیک منصوبے کی تعمیر کا منصوبہ رکھا گیا ہے حالانکہ سیندک منصوبے میں اتنی جگہ موجود ہے جہاں بہ آسانی دو سو بچوں کو انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم دی جاسکتی ہے جو کل دنیا کے کسی بھی ملک میں جا کر نہ صرف کام کرسکتے ہیں بلکہ یہاں زر مبادلہ بھی لاسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ ماضی میں سوئی گیس منصوبے میں رائلٹی کے حوالے سے باتیں طے کرلی جاتیں تو ہماری گیس کی ہمیں صحیح قیمت ملتی وفاق آج بھی ہزاروں روپے کا گیس رائلٹی کی مد میں ہمارا مقروض ہے دوسری جانب سوئی اور ڈیرہ بگٹی کے عوام تمام سہولیات سے محروم ہیں انہوں نے زور دیا کہ اگر سیندک منصوبے کے حوالے سے معاہدے میں توسیع کی گئی ہے یا کوئی پیشرفت ہوئی ہے تواس سے ایوان کو آگاہ کیا جائے۔وزیر خزانہ کی جانب سے اظہار خیال کے بعد دو دنوں سے جاری بحث نمٹا دی گئی جبکہ گزشتہ اجلاس میں اپنی باضابطہ شدہ تحریک التواء پر عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی جب بحث کا آغاز کرنے لگے تو بلوچستان عوامی پارٹی کی بشریٰ رند نے کورم نشاندہی کی جس پر پینل آف چیئر مین کے رکن قادر نائل نے پانچ منٹ کورم کی گھنٹیاں بجانے کی ہدایت کی تاہم کورم پورا نہ ہونے پر مزید پندرہ منٹ کورم کی گھنٹیاں کی ہدایت کی تاہم کورا پورا نہ ہوسکا جس کی بناء پر ڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل نے اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کردیا۔


