چنگیز بلوچ گزشتہ 10 سال سے لاپتہ ہے، جس اذیت سے گزر رہے ہیں وہ ناقابل بیان ہے، ہمشیرہ

کوئٹہ (پ ر)مشکے کے رہائشی جبری لاپتہ چنگیز بلوچ کی ہمشیرہ حفظہ بلوچ نے کہا ہے کہ میرے بھائی کو 11 جنوری 2014 کو خضدار سے لاپتہ کیا گیا، 10 سال گزر گئے، وہ تاحال لاپتہ ہے۔ 10 سال کہنے کے لئے دو ہندسے ہیں لیکن ان 10 سالوں میں ہم جس اذیت سے گزر رہے ہیں وہ ناقابل بیان ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ایک شخص کی جبری گمشدگی نے پورے خاندان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔ میں اور میرا خاندان جس اذیت سے گزر رہا ہے وہ بلوچستان کے ہر خاندان اور ہر گھر کی کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خضدار سے تعلق رکھنے والے آصف، رشید اور سلمان کی فیملی بھی اس درد اور کرب سے دوچار ہے، 31 اگست 2018 کو رشید اور آصف کو نوشکی سے جبری لاپتہ کیا گیا اور تب سے لاپتہ ہیں اور ان کی بہن سائرہ بھی میری طرح ہاتھوں میں بھائیوں کی تصاویر لئے خود بھی درد کی تصویر بنی ہوئی ہے۔اس طرح سعدیہ کے بھائی سلمان کو 13 نومبر 2022 کو کوئٹہ سے جبری لاپتہ کر دیا گیا ہے، وہ بھی اپنے بھائی کو شدت سے تلاش کر رہی ہے۔ اس تلاش میں ہمارا ساتھ دیں اور بلوچ وائس فار جسٹس کی جانب سے 24 مئی کو شام 7 بجے سے 12 بجے تک X پر رشید، آصف اور سلمان کی بازیابی کی مہم میں حصہ لے کر اپنا انسانی اور اخلاقی حق ادا کریں۔ اور ہیش ٹیگ۔ ReleaseSalmanAsifRasheed استعمال کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں