بارڈر ٹریڈ اسمگلنگ نہیں، کسٹم کا لوگوں کو تنگ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے، میر غلام بادینی

نوشکی (نامہ نگار) ایم پی اے نوشکی حاجی میر غلام دستگیر بادینی کی سربراہی سرکاری محکموں کے ضلعی سربراہان کا اجلاس، محکموں کی کارکردگی اور عوامی مسائل اور ان کے حل سے متعلق مشاورت۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نوشکی امجد حسین سومرو اسسٹنٹ کمشنر عطا المنیم سمیت دیگر سرکاری افسران موجود تھے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایم پی اے نوشکی نے کہا کہ ایران اور افغان بارڈر کے ذریعے چھوٹے موٹے کاروبار چند ہزار لیٹر تیل، کھانے پینے کے سامان یا چار پانچ لاکھ کی گاڑی لانا اسمگلنگ نہیں بلکہ محنت مزدوری ہے جس سے وابستہ ہزاروں لوگ سخت مشقت اور محنت کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔ کسٹم حکام کی جانب سے کاروباری حضرات کو بلاوجہ تنگ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے، گزشتہ دنوں کسٹم حکام کی جانب سے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں سے خواتین کو اتارنا انتہائی شرمناک اور بلوچی روایات کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں منظور شدہ ترقیاتی اسکیمات کی ہم نے سی ایم سے اپروول لی ہے، ترقیاتی اسکیمات کو سیاسی تعصب و تنگ نظری کے شکار کرنے کو عوام دشمنی سمجھتے ہیں، سابقہ دور کی اسکیمات سے اگر عوام کو فائدہ ہوگا تو کھلے دل سے انہیں پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت ہماری پہلی ترجیح ہے، متعدد بند اسکولوں کی وجہ سے سیکڑوں بچے اور بچیاں تعلیم کے زیور سے محروم ہیں، بند اسکولوں کو کھولنا محکمہ تعلیم کی ذمہ داری ہے۔ وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی کو دورہ نوشکی کی دعوت دی ہے، بہت جلد وہ دورہ نوشکی کے موقع پر تعلیمی اداروں سے متعلق مسائل کا جائزہ لیکر انہیں حل کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع نوشکی میں ایس ایس ٹی سمیت اساتذہ کی سیکڑوں پوسٹیں خالی ہیں جس کی وجہ سے ضلع میں نظام تعلیم شدید متاثر ہے، گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج کی نئی بلڈنگ کی منظوری نگران حکومت نے دی، ہماری کوشش ہے کہ موجودہ حکومت گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج کی نئی بلڈنگ کے لیے پی ایس ڈی پی میں فنڈ رکھے اور کالج کے اندر بلیک ٹاپ روڈز اور اسٹوڈنٹس کی پک اینڈ ڈراپ مقامات پر شیڈ تعمیر کرائیں گے اور بوائز و گرلز کالج کے کمپیوٹرز لیب کو سامان فراہم کرنے کے لیے اقدامات کریں گے تاکہ ہمارے بچے آن لائن تعلیم کی سہولت سے بھی مستفید ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ پچاس بستروں پر مشتمل اسپتال کا کام جاری ہے، اس کی نگرانی کرکے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے، ففٹی بیڈڈ اسپتال این چالیس پر واقع ہے جس سے مرکزی شاہراہ پر حادثات کی صورت میں فوری طبی امداد کی سہولت میسر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ففٹی بیڈڈ اسپتال کی مین بلڈنگ اور ڈاکٹرز کے رہائشی مکانات کے لیے الاٹ شدہ زمین کو ضلعی انتظامیہ لینڈ مافیا سے محفوظ رکھیں۔ ایم پی اے نوشکی نے نوشکی کے علاقہ زارو چاہ اور درزی چاہ کی خراب دونوں ایمبولنس گاڑیوں کو ذاتی خرچے پر مرمت کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہاکہ نوشکی ٹیچنگ اسپتال میں ڈاکٹروں کی متعدد پوسٹیں خالی جبکہ محکمہ صحت کی جانب سے نوشکی اسپتال کے ڈاکٹروں کو خاران اٹیچ کرنا نوشکی کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے، تنخواہ نوشکی سے لیکر خاران اٹیچ ہونے والے ڈاکٹرز وہاں بھی ڈیوٹی نہیں کرتے، ان کے آرڈر کینسل کرنے کے لیے منسٹر ہیلتھ اور سیکرٹری ہیلتھ سے درخواست کریں گے۔ انہوں نے مزید کہاکہ سکولز ہسپتال اور کھیلوں کی میدان کے لیے الاٹ شدہ زمینیں عوام کی فلاح و بہبود اور وسیع تر مفاد کے لیے مختص کی گئی ہیں ان کو قبضہ کرنے کی کسی کواجازت نہیں دیں سکتے ضلعی انتظامیہ اس حوالے سے کسی بااثر شخص کی سفارش کو خاطر میں نہ لائیں بحیثیت ایم پی اے نہ پہلے کبھی لینڈ مافیا ڈرگ مافیا اور چوروں کے لیے سفارش کی ہیں نہ آئندہ کرینگے نوشکی پولیس اور انتظامیہ امن و امان کو بہتر بناکر لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور چوری ڈکیتی میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں۔ انہوں نے کہاکہ گڈانگ پل تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے سیلاب کے دنوں میں نوشکی کے دو یونین کونسل ڈاک اور انام بوستان کے کئی کلیوں کے مکین پچیس روز تک محصور رہے اور نوشکی شہر سے انکا زمینی رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے نہ صرف ان کے گھروں میں خوراک کی قلت پیدا ہوگئی بلکہ بچوں اور مریضوں کو بھی سخت ترین حالت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہاکہ گڈانگ پل کو تعمیر کرنا قادر آباد زارو چاہ روڈ پر کام کرنے والے ٹھیکیدار کی ذمہ داری ہیں اگر وہ گڈانگ پل تعمیر کرنے میں دلچسپی نہیں لیتے تو محکمہ بی اینڈ آر ری ٹینڈر کا آپشن استعمال کرکے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات کو اس حوالے سے لکھیں۔ انہوں نے کہاکہ پانی کے بغیر زندگی مشکل ہیں مگر گزشتہ چند سال میں محکمہ پی ایچ ای عوام کے لیے وبال جان بن گئی تھی نوشکی سٹی اور دیہی علاقوں میں متعدد ٹیوب ویل خراب ہونے کی وجہ سے عوام کو پانی کا ایک گھونٹ نصیب نہیں تھا لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے احتجاج کررہے تھے۔ پی ایچ ای کے موجودہ حکام پانی سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں سخت گرمی کے موسم میں پانی کا بحران کسی قیامت سے کم نہیں۔ انہوں نے کہاکہ پی ایچ ای حکام اپنی سابقہ اسکیمات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اقدامات کریں صوبائی حکومت ایک آب نوشی اسکیم کے لیے ایک کروڑ بیس لاکھ روپے دے رہے ہیں اگر وہ بھی کسی ایک فرد کی مفاد یا غفلت کی وجہ ناکام ہوجائے تو یہ ہماری بدقسمتی ہیں انہوں نے کہاکہ عوامی نمائندے اور سرکاری آفیسران عوام کے خادم ہیں اگر کوئی شخص اپنی فریاد لیکر ہمارے پاس آئے تو ہمیں خندہ پیشانی سے نہ صرف انھیں سننا چاہیے بلکہ ان کے جائز کام بغیر کسی حیلے اور بہانے کے کردینا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں