سرکاری جامعات کو فنڈنگ نہ کرنے کا حکومتی نوٹیفکیشن مسترد کرتے ہیں، فپواسا

کو ئٹہ (یواین اے ) فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) کے مرکزی کونسل کا اہم آن لائن اجلاس زیرصدارت ڈاکٹر امجد عباس مگسی (پنجاب یونیورسٹی) منعقد ہوا۔ جس میں نائب صدر ڈاکٹر مظہر اقبال کیو اے یونیورسٹی، سیکرٹری ڈاکٹر عزیر محمد پشاور یونیورسٹی، بلوچستان چیپٹر کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، جنرل سیکرٹری فریدخان اچکزئی سمیت تمام صوبائی چیپٹرز کے صدور اور جنرل سیکرٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس میں وفاقی حکومت کے وزرات خزانہ کی جانب ایچ ای سی اسلام آباد کو لکھے گئے خط جس میں ملک بھر کی سرکاری جامعات کےلئے ریکرنگ بجٹ کو 65 ارب روپے سے صرف 25 ارب روپے اور ترقیاتی بجٹ کو 59 ارب سے کم کرکے صرف 21 ارب تک محدود کرکے صرف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی فیڈرل چارٹرڈ یونیورسٹیوں کو فنڈنگ کرنے اور دیگر تمام سرکاری یونیورسٹیوں جو مختلف صوبوں میں موجود ہیں، کو فنڈنگ نہ کرنے کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی اور مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وفاقی حکومت نے 2018 سے لیکر 2024 تک ملک بھر کی جامعات کی ریکرنگ بجٹ کو 65 ارب روپے تک محدود رکھا اور اس سے نہیں بڑھایا گیا جس کے نتیجے میں ملک بھر کی سرکاری یونیورسٹیاں خاص کر یونیورسٹی آف بلوچستان سخت مالی بحران میں مبتلا رہی اور یہاں تک کے کئی کئی مہینوں کی تنخواہیں اور پنشنز کی بروقت و مکمل ادائیگی ممکن نہیںہوسکی، جسکی واضح مثال جامعہ بلوچستان یے ۔ اجلاس میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت کے وزارت خزانہ کے اس نوٹیفیکیشن کے تحت اب وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن صوبوں کی جامعات کو کسی بھی قسم کی فنڈنگ نہیں کرسکے گی اور صوبے اپنی اپنی یونیورسٹیوں کو خود فنڈنگ کریں گی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ملک بھر کی صوبوں خاصکر صوبہ بلوچستان میں صوبائی سطح پر تاحال ہائر ایجوکیشن کمیشن قائم نہیں کیا گیا اور تمام صوبوں کو اعتماد میں لئے بغیر اور صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کے بغیر، خصوصاً پاکستان کے اہم آئینی اداروں کونسل آف کامن انٹرسٹ و فنانس کمیشن آف پاکستان جس میں تمام صوبوں کے وزرا اعلیٰ و صوبائی وزرا خزانہ ممبران ہوتے ہیں، میں زیر بحث لائے بغیر جلد بازی میں ایسا تباہ کن نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جو کسی بھی صورت قابل عمل اور قابل قبول نہیں ھوسکتا۔ اجلاس میں تمام صوبائی وزرا اعلی سے اپیل کیا گیا کہ اس بابت وفاقی حکومت سے سخت احتجاج کریں اور مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے اپیل کیا گیا کہ اس غیرقانونی نوٹیفکیشن کو منسوخ کرائیں اور اپنے انتخابی منشور میں تعلیم کے لئے جی ڈی پی کا چار اور پانچ فیصد کرانے کے وعدے پر عملدرآمد کراکر 2024_25 کے سالانہ بجٹ عملی طور پر شامل کرائیں ۔ اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان سے پر زور مطالبہ کیا کہ وفاقی وزرات خزانہ کی جانب سے جلد بازی میں نکالے گئے اس نوٹیفیکیشن کو منسوخ کرائیں اور اپنی انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں کے مطابق تعلیم کے شعبے کےلئے جی ڈی پی کا کم از کم چار فیصد اور ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے 500 ارب روپے مختص کریں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بروز جمعرات کو ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے یوم سیاہ منائے گی اور احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے اور اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس اور احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا ۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اس بابت ملک و صوبہ گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں