میرے اغوا کا توہین عدالت کیس سے براہ راست تعلق ہے: مطیع اللہ جان
گذشتہ روز مطیع اللہ جان کو اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس سے نامعلوم افراد نے اس وقت ’اغوا‘ کر لیا تھا جب وہ اپنی اہلیہ کو ان کے سکول چھوڑنے آئے تھے، انہیں رات گئے فتح جھنگ کے علاقے میں چھوڑ دیا گیا تھا۔سپریم کورٹ آف پاکستان میں توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران صحافی مطیع اللہ جان نے اپنے ‘اغوا’ کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت عظمیٰ سے تحریری جواب جمع کروانے کے لیے مہلت طلب کرلی۔سپریم کورٹ میں بدھ کو چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل بینچ نے صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔واضح رہے کہ گذشتہ دنوں مطیع اللہ کی ایک متنازع ٹویٹ کا عدالت نے ازخود نوٹس کر انہیں نوٹس جاری کیا تھا۔قیاس کیا جارہا ہے کہ جس ٹویٹ پر عدالت نے نوٹس لیا، اس میں مطیع اللہ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے حوالے سے بینچ میں موجود ججز پر تنقید کی تھی۔دوران سماعت مطیع اللہ جان نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ انہیں توہین عدالت کے مقدمے میں جواب جمع کروانے کے لیے وقت دیا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کا اغوا توہین عدالت کے مقدمہ سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔جس پر عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ ‘اس کا کیا مطلب ہے؟’ ساتھ ہی عدالت نے مطیع اللہ کو وقت دیتے ہوئے کہا کہ ‘آپ جب جواب داخل کریں تو اس حوالے سے بھی بتائیں۔اس موقع پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ‘مطیع اللہ کے اغوا کا توہین عدالت کیس سے کیا تعلق ہے۔مطیع اللہ جان اس موقع پر جواب دینا ہی چاہتے تھے، لیکن چیف جسٹس نے انہیں جواب دینے سے روک دیا اور کہا کہ ‘آپ صرف توہین عدالت کے معاملے پر ہی بات کریں۔مطیع اللہ جان نے عدالت کے روبرو کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا فری اینڈ فیئر ٹرائل ہو، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ‘ہم یہاں اسی لیے بیٹھے ہیں۔ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس کو حکم دیا کہ وہ دو ہفتے بعد عدالت عظمیٰ کو سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کے ‘مبینہ اغوا’ کے حوالے سے رپورٹ پیش کریں۔واضح رہے کہ گذشتہ روز مطیع اللہ جان کو اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس سے نامعلوم افراد نے اس وقت ’اغوا‘ کر لیا تھا جب وہ اپنی اہلیہ کو ان کے سکول چھوڑنے آئے تھے، انہیں رات گئے فتح جھنگ کے علاقے میں چھوڑ دیا گیا تھا۔کیس کا آرڈر لکھواتے وقت چیف جسٹس گلزار احمد نے مطیع اللہ جان کے لیے contemner (توہین عدالت کرنے والا) کا لفظ استعمال کیا، جس پر جسٹس مشیر عالم نے ان کے کان میں کچھ کہا، جس کے بعد چیف جسٹس نے ان کے لیے ‘مغوی’ کا لفظ استعمال کیا، تاہم جسٹس اعجاز الاحسن کی جانب سے چیف جسٹس کے کان میں سرگوشی کے بعد انہوں نے مطیع اللہ کے لیے ‘مبینہ مغوی’ کا لفظ استعمال کیا۔جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ‘یہ قانونی اصطلاح ہے، ہم اسے دیکھ لیں گے.دوران سماعت عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ابھی تک مطیع اللہ کے بھائی کا بیان کیوں ریکارڈ نہیں کیا گیا؟ جس پر اٹارنی جنرل کوئی جواب نہیں دے سکے۔ اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ‘آپ کا ڈیپارٹمنٹ کیا کر رہا ہے؟ ان کا بیان ریکارڈ کرنا چاہیے تھا۔سماعت کے دوران وکلا کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ‘گذشتہ روز قانونی کی دھجیاں بکھری گئیں۔دوسری جانب پریس کلب کے جنرل سیکریٹری افضل بٹ نے کہا کہ ‘ہم استدعا کرتے ہیں کہ معاملے کو رفع دفع نہیں ہونا چاہیے۔’


