سوئی سدرن کمپنی کی پاکستان بھر میں کارروائیاں، 2500 غیر قانونی گیس کنکشنز ہٹا دیے
کوئٹہ(یو این اے )سوئی سدرن گیس کے فرنچائز صوبوں سندھ اور بلوچستان میں گیس چوری کرنے والوں کے خلاف ادارے کی جانب سے مسلسل تعاقب جاری ہے۔کمپنی کی سیکیورٹی سروسز اینڈ کانٹر گیس تھیفٹ آپریشنز (ایس ایس اینڈ سی جی ٹی او)ونگ، کسٹمر ریلیشنز ڈپارٹمنٹ(سی آر ڈی) اور دیگر علاقائی اور زونل ٹیموں نے کراچی، کوئٹہ، حیدرآباد، لاڑکانہ، نواب شاہ، پشین، قلات اور بالائی اور زیریں سندھ اور بلوچستان کے دیگر علاقوںمیں کامیاب کارروائیوں کے دوران 2500 سے زائد غیر قانونی گھریلو کنکشنز کو ختم کردیا۔گیس چوری میں ملوث زیادہ تر رہائشیوں نے مرکزی گیس پائپ لائن سے ربڑ پائپ اور کلمپ کے ذریعے اپنے کنکشنز بڑھائے ہوئے تھے ، ان تمام کنکشنزکو موقع پر ہی ہٹا دیا گیا ۔ اس کے علاوہ کراچی کے علاقے کلفٹن میں گیس(تھی فٹ کنٹرول اینڈ ریکوری ایکٹ)2016 کے تحت کنفیکشنری فیکٹری، پکوان سینٹر اور روڈ سائیڈ ریسٹورنٹ اور گیسٹ ہاسز سمیت کمرشل سیٹ اپ پر چھاپے مار کر 3 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ سوئی سدرن پولیس اور ریکوری ڈپارٹمنٹ باقاعدگی سے کی جانے والی ان تمام کارروائیوں میں سب سے آگے آگے ہوتے ہیں۔ کراچی میں 1500 سے زائد غیر قانونی زیر زمین اور اوور ہیڈ کنکشنز ہٹائے گئے، کوئٹہ میں 500 سے زائد غیر قانونی کنکشن ہٹائے گئے، اس کے بعد دیگر شہروں اور قصبوں میں بھی کنکشن ختم کیے گئے۔ چوری میں استعمال ہونے والے کلمپس کو بھی ہٹا دیا گیا اور مزید چوری کو روکنے کے لئے سروس لائنوں کو ختم کردیا گیا۔گیس چوری میں ملوث افراد کے خلاف چوری کے دعوے دائر کیے گئے ہیں تاکہ ہونے والے نقصانات کی تلافی کی جا سکے۔ چوری کنٹرول ٹیموں نے چوری سے متاثرہ علاقوں کی نگرانی اور مانیٹرنگ بھی تیز کردی ہے۔اس کے علاوہ ٹیلی ویژن، پرنٹ، ریڈیو اور سوشل میڈیا پر ایک ماس میڈیا مہم شروع کی گئی ہے، جس کا مقصد اس بڑے جرم کے خلاف مزاحمت پیدا کرنا ہے۔سوئی سدرن باقاعدگی سے چھاپوں اور جارحانہ کارروائیوں کے ذریعے گیس چوری کے خطرے پر قابو پانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ گیس چوری کمپنی کی جانب سے بے حساب گیس (یو ایف جی)یا لائن لاسز کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔


