چمن پرلت ،ہمارے بچوں کے قاتل اعلیٰ حکام ہے، ان خلاف ایف آئی آردرج کریں گے،محمود خان اچکزئی

چمن (پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے چمن پرلت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چمن پرلت کے بنیادی جائز اور قانونی مسئلے کو نہ صرف پاکستان کے عوام، سیاسی پارٹیوں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی سمجھنے لگے ہیں، اب عوام سمجھ چکے ہیں کہ اس ملک میں پشتونوں کی زندگی اجیرن بنائی جارہی ہے، چمن پرلت کے شہدا نے اپنے بنیادی،انسانی، آئینی،اسلامی حق کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا،شہدا کے خون کو راہیگاں نہیں جانے دینگے،ہم آج پرلت کے اس عظیم الشان اجتماع کی توسط سے شہدا کے قتل کی ایف آئی آر برگیڈیئر، کرنل اور ڈپٹی کمشنر کے خلاف درج کرتے ہیں،ہمارے بچوں کے قتل عام کو اتنا آسان نہ سمجھا جائے،پشتون اپنی تاریخی اور روایات میں بدی کے معنی سمجھتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ 130سال سے ڈیورنڈ خط پر تجارت اور آنے جانے کیلئے جو روایتی نظام رائج تھا اس کو فی الفور بحال کرکے پاسپورٹ کی شرط کو ختم کیا جائے تاکہ ڈیورنڈ خط کے دونوں اطراف آباد قبائل اور عوام بآسانی اپنا تجارت اور کاروبار جاری رکھ سکیں اور آسانی سے اپنی زرعی زمینوں، تجارتی مراکز میں اپنی معاشی وسماجی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیورنڈ خط پر تمام انٹری پوائنٹس پر کسٹم کلیئرنس کا نظام رائج کرکے تجارتی اشیاءپر معقول ٹیکس وصولی کی جائے اور چمن سمیت غلام خان بندر، انگور اڈہ، طور خم اور دیگر کراسنگ پوائنٹس پر تجارت اور کاروبار کے مواقع بحال کیئے جائے اور لاکھوں عوام کا معاشی قتل عام کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیورنڈ خط پر عوام کسی صورت اپنی زمینوں پر آنے اور جانے کیلئے پاسپورٹ کی شرط کو تسلیم نہیں کرینگے، اس اہم مسئلے کے حل کیلئے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جس کی سربراہی جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن صاحب کو دی جائے وہ کمیٹی آکر پرلت کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرتے اور مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم قطاً یہ نہیں کہتے کہ ہم تمام چمن یا تمام پشتونوں کیلئے پاسپورٹ نہیں مانتے ایسا ہر گز نہیں کیونکہ ہمارے 30ہزار کے قریب ممتاز تاجرپوری دنیا میں تجارت کررہے ہیں، پاسپورٹ پر ہی آتے اور جاتے رہتے ہیں لیکن ہم ڈیورنڈ خط کے آر پار قبائل جن کی زمینیں، کھیتی باڑی، فصلات اور باغات، رشتہ داریاں یہاں اس پار اور اُس پار دونوں جانب موجود ہیں اور چمن شہرکے لوگوں کا ڈیورنڈ خط کے اُس پار تجارتی مارکیٹیں اور دکانیں ہیں جو کہ صبح کو جاتے اور شام کو واپس اپنے گھر آتے ہیں، ہم اپنی زمینوں پر جانے کیلئے پاسپورٹ کی شرط کو نہیں مانتے چاہے کچھ بھی ہوجائے۔ گزشتہ 9مہینے سے جاری تاریخی چمن پرلت /دھرنے پر گولیاں برسانا، انہیں شہید کرنا، سینکڑوں لوگوں کو زخمی کرنا، لوگوں کو زبردستی اُٹھانا، جعلی مقدمات قائم کرناآئین وقانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے جو بھی آئین کی خلاف ورزی کرتا ہو ہم ان کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہینگے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا یہ عظیم الشان چمن پرلت عوام کی پارلیمنٹ ہے ہمارے بچوں کے قاتل برگیڈیئر،کرنل اور ڈپٹی کمشنرہے یہ لوگ آج بھی لوگوں سے کروڑوں روپے رشوت وصول کررہے ہیں ہم کہتے ہیں کہ جو ٹیکس آپ لوگ کراچی کی بندر پر وصول کرتے ہو یہاں بھی ایسے کسٹم کلیئرنس کے دفاتر قائم کیئے جائے اور ٹیکس ڈیورنڈ خط کے کراسنگ پوائنٹس پر وصول کیا جائے، چمن، غلام خان، انگور اڈہ، خڑ لاچی، بادینی، قمر الدین، توبہ اور دیگر علاقوں میں کسٹم کلیئرنس نظام رائج کرنے کیلئے دفاتر کھولیں جائیں۔ تاکہ پھر شہروں میں پشتونوں کے مارکیٹوں، تجارتی مراکز، دکانوں اور گوداموں پر چھاپے نہ مارے جائے۔ ہماری تحریک کرپشن سے پاک ملک بنانا چاہتی ہے اور آپ کرپشن کرتے ہیں یہ پیسے سرکاری خزانوں میں جانے کی بجائے جیبوں میں جارہے ہیں جن کا کوئی حساب نہیں۔ آئیں ہمارے ساتھ بیٹھے اور ہمارے عوام کی ملکیت کو تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک چلانے کیلئے پہلی شرط آئین ہے۔ ملک میں آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختیاری، قانون کی حکمرانی، قوموں کی برابری پر مبنی حقیقی فیڈریشن، ہر ادارے کو آئین کا پابند بنانے، داخلہ وخارجہ پالیساں عوام کے منتخب پارلیمنٹ سے تشکیل دینے تک تحریک تحفظ آئین پاکستان اپنی جدوجہد سیاسی اور جمہوری انداز میں جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپنا حق دوسروں کو نہیں چھوڑ سکتے جبکہ دوسروں کا حق چھینناظلم کے مترادف ہے، ہم نہ کسی کے حق پر ڈاکہ ڈالیں گے اور نہ ہی اپنا حق کسی کو غصب کرنے دینگے۔ پاکستان آئی ایم ایف کا قرضہ دار ہے، حکمران ہمیں مجبور نہ کرے کہ پھر ہم غریب پشتون،بلوچ، سندھی اقوام سے کہے کہ وہ آئی ایم ایف سے لیئے گئے قرضوں کا ایک روپیہ بھی ہمارے وطنوں میں استعمال ہوا ہے ہم ان کے قرض ادا کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن جو قرضے لیئے گئے ہیں وہ ہمارے وطنوں میں استعمال نہیں کیئے گئے۔ لہذٰا ہم قرضے اُتارنے کے ذمے دار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ایک نئی جنگ چھیڑنے کی غلطی کی گئی تو خطہ جل جائیگا۔ دنیا کے طاقتور اور مست سانڈ ایک بار پھر ہمارے وطنوں پر اپنی پنجہ آزمائی کرنا چاہتے ہیں ایسا کیا گیا تو نتائج نہایت بھیانک اور تباہ کن ہونگے۔ ہم ان تمام سے کہنا چاہتے ہیں کہ کسی کا باپ بھی افغانستان پر نئی جنگ مسلط نہیں کرسکتا کیونکہ افغانستان اپنے استقلال کا اور خودمختاری کا مالک ہے۔ ہم اقوام متحدہ، امریکہ، روس، چین سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ افغانستان اور ان کے تمام ہمسایوں کے درمیان ضامن کا کردار ادا کرے تاکہ افغانستان اور اس کے ہمسائے عدم ایک دوسرے کے معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر گامزن ہوجائے اوریہ یقین دہانی کرائیں کہ وہ اپنی سرزمینوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں کرینگے اور آزادی وخودمختاری کا خیال رکھیں گے۔ اور دنیا کے بڑے ممالک اس بات کی گارنٹی دیں کہ وہ افغانستان اور پاکستان کو تمام مسائل کے حل کیلئے ایک ساتھ بٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نےطالبان رہنماءمُلا متوکل سے بھی کہا ہے کہ افغانستان اور افغانوں کیلئے اپنی آزادی اور استقلال نہایت عزیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارگرد کے حالات اور ہمارے وطن پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں تمام عوام کو چوکنا اور حالات سے باخبر رہنا ہوگا۔ ہم اپنے وطن پر کسی کو نئے جنگ کی اجازت نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہاکہ فلسطین میں جاری ظلم وبربریت اور سفاکیت پر ہمارے حکمرانوں کو صرف اسرائیل کو بد دعائیں دینے کی توفیق نصیب ہوئی ہے جبکہ افریقہ کے کمزور ملک نے اسرائیلی مظالم کے خلاف اقوام متحدہ میں قرار داد پیش کی۔ جماعت اسلامی نے جب اسلا م آباد میں اسرائیل کے خلاف ریلی نکالی تو ایک برگیڈیئر کے رشتے داروں نے ان پر گاڑی چڑھ دوڑائی۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن میں سورة رحمان میں بیان کی جانیوالی نعمتوں سے مالا مال ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے عوام دو وقت کی روٹی کیلئے درپدری کی ٹھوکریں کھارہے ہیں، ہمارے نعمتوں اور وسائل پر اغیار قابض ہے،ہماری زمینوں میں جب جہاں بھی قیمتی معدنیات دریافت ہوتے ہیں تو یہ لوگ کاغذ کا ایک ٹکڑا لاکر الاٹ منٹ کے نام پر قبضہ جما لیتے ہیں۔ مومند کے سنگ مرمر، خٹک کے گیس کے ذخائر سمیت پشتونوں کے قیمتی وسائل کو قبضہ کیا جارہا ہے۔ ایسی ناانصافیوں سے ملک نہیں چلے گا ہمارے وطن کے ہر وسائل پر پہلا حق ہمارے بچوں کا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب زدگان کیلئے دنیا جہاں نے پیسے دیئے لیکن اس صوبے میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ آج بھی کوئٹہ کا ہنہ اوڑک ویسے کا ویسا ہے وہاں کے لوگ مشکلات سے دوچارہیں، توبہ میں جو تباہی ہوئی وہاں کے متاثرین کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا اور اربوں روپے کہاں خرچ کیئے گئے ۔ حکومتیں اور ملک اس طرح نہیں چلائے جاسکتے کہ آپ لوگوں کو جو بکتے ہیں جنہیں خریداجاسکتا ہے ان کو حکومت حوالے کردیتے ہو، ایک وزیر اعلیٰ سے 7ارب وزیر اعلیٰ دینے کے عیوض لیئے گئے، دوسرے سے بھی اربوں روپے لیکر انہیں وزیر اعلیٰ شپ دی گئی اور اب سُننے میں آرہا ہے کہ سنجرانی صاحب سے اربوں روپے لیکر انہیں وزیر اعلیٰ بنانے کی باتیں ہورہی ہے۔8فروری کا الیکشن کروڑوں اربوں روپے کے عیوض فارم 47کے ذریعے حقیقی نتائج کو تبدیل کیا گیا، اس طرح کے غیر جمہوری، غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات سے ملک کو کھوکھلا ہوگیا ہے اور اس کے تمام ادارے مفلوج ہیں اوریہ ڈوبنے کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرنل امام نے خود ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر کہا تھا کہ میں نے پوری دنیا کے 90ہزار کے قریب افراد کو یہاں پرلاکر دہشتگردی کی تربیت دی۔ لوگ جب ترکان کی دکان پر شاگرد رکھتے ہیں تو بھی ان کا ڈیٹا، معلومات اپنے پاس رکھتے ہیں لیکن کرنل امام نے 90ہزار لوگوں کو میزائل،مارٹر، بم بنانے، اسلحہ چلانے کی تربیت دیکر انہیں چھوڑا۔اب وہ کہیں بھی دہشتگردانہ کارروائیاں کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مسعود قبائل کے صرف تین سے چار نوجوان بندو ق اٹھا چکے تھے، آپ نے آپریشن کے نام پر پورے وزیرستان کے لاکھوں لوگوں کو اپنے گھروں سے بیدخل کیا اور پھر ان پر بدترین بمباری کی، انہیں شہید کیا گیا اور ان کے کروڑوں اربوں کے گھر، مارکیٹیں بازار مسمار کیئے گئے، 1200سے زائد مشران کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے شہید کیا گیا۔ اس کام کانتیجہ پھر آپ نے دیکھا، آج بھی وزیرستان کے لوگوں کو جرگہ اسلام آباد میں بیٹھا ہوا ہے اس ملک کی طاقتور قوتیں جرگے کے معنی کو نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ اُسامہ بن لادن کے حوالے جب دنیا نے آپ سے کہا کہ وہ یہاں ہے آپ نے نہیں مانا پھر رات کی تاریخی میں صرف 2ہیلی کاپٹرز میں 20افراد آئے اور آپ کی ایسی تہس نہس کردی کہ ہمیں پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہوئی۔ انہوں نے ہماری ساورنٹی پر حملہ کرکے یہاں سے لوگوں کو لے گئے اور ہم سوتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ پرلت کے لوگوں کو رہا کرنا ہوگا ، جیلوں میں لوگوں کو ڈالنے سے مسئلے حل نہیں ہونگے،انتخابات میں ہماری پارٹی کی جیتی نشستوں پر ڈاکہ ڈالا گیا میری نشست بھی لینے کی کوشش کی گئی لیکن ناکام رہے میں آج بھی چمن کے عوام یہ جو یہاں پر موجود ہے یہ عوام کا پارلیمنٹ ہے ان سے کہتا ہوں اگر یہ فیصلہ کرے کہ میں اسمبلی چھوڑ کر یہاں بیٹھ جاؤں تو میں تیار ہوں اور استعفیٰ دے دونگا۔ انہوں نے کہا کہ اس اتحاد میں شامل تمام جماعتیں آج چمن کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں ان کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے ہر فورم پر چمن پرلت کو اجاگر کررہے ہیں اور عوام کی طاقت سے ہم اپنے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہونگے ۔ چمن پرلت کے اجتماع سے پاکستان تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مرکزی ترجمان اخونزادہ حسین یوسفزئی، پشتونخوامیپ کے مرکزی سیکرٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال، مرکزی سیکرٹری علا¶الدین کولکوال، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری سردار امجد ترین، لغری اتحاد کے رہنما¶ں مولوی منان صاحب، فیض محمد پشتون، منڈولی، امیر محمد نے بھی خطاب کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض پارٹی کے صوبائی سیکرٹری کبیر افغان نے سرانجام دیئے جبکہ تلاوت کلام پاک کی سعادت مولوی شراف الدین صاحب نے حاصل کی۔ دیگر مقررین کا بیان 21جون کو شائع کیا جائیگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں