کراچی، دو روز میں گرمی سے مرنے والوں کی تعداد 20 ہوگئی
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی میں شدید گرمی سے مختلف علاقوں میں مزید 6 لاشیں برآمد ہوئیں، جس کےبعد دو روز میں مرنے والے افراد کی تعداد 20 ہو گئی ہے۔ریسکیو حکام کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں سے مزید 7 افراد کی لاشیں ملیں ہیں جس کی عمر35 سے 60 سال کے درمیان ہیں۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والے زیادہ تر افراد نشے کے عادی ہیں جو گرمی کی شدت کو برداشے نہیں کر سکے ہیں۔ریسکیو حکام کو جامع کلاتھ، گولیمار، سپر ہائی وے سے 3 افراد کی لاشیں ملیں، گلستان جوہر اور لانڈھی سے بھی 2 افراد کی لاشیں ملیں،جبکہ فیڈرل بی ایریا کریم آباد سے ایک شخص جبکہ شاہ فیصل گرین ٹاؤن کے قریب روڈ کنارے سے گدا گر خاتون کی لاش ملی۔تمام لاشیں وقوعہ سے پولیس اسٹیشن اور پھر سرد خانے بھیجی گئی، جبکہ مرنے والوں کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔کراچی میں 24 گھنٹوں کے دوران مرنے والوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔جبکہ کراچی کے سول اسپتال میں 67 افراد تیز بخار کے باعث اسپتال بھی پہنچے، انچارج ہیٹ اسٹروک وارڈ ڈاکٹر نظام شیخ کےمطابق تمام افراد کو ایک سو اورایک تھا۔ادھرکراچی میں صبح کے اوقات سے ہی حبس کی صورتحال رہی جو کہ درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی نمی میں بھی اضافے کا سبب بنی۔بجلی اور پانی کی عدم فراہمی پر نیشنل ہائی وے ملیرکالابورڈ پرشہریوں کا احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔دوسری جناب کراچی کے علاقے پاپوش نگر چاندنی چوک کے مکین بھی کے الیکٹرک کے خلاف سڑکوں پر آگئے،علاقہ مکینوں نے چاندنی چوک پر جلاو گھیراو بھی کیا، شہری کہتے ہیں کہ روزانہ 12 سے 14 گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے کے الیکٹرک کو کالعدم قراردیا جائے۔کراچی میں آج درجہ حرارت 42 ڈگری تک ریکارڈ کیا گیا، تاہم محسوس کی جانے والی گرمی تقریبا 50 ڈگری رہی۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز بھی کراچی کا درجہ حرارت 41 ڈگری تھا، لیکن گرمی کی شدت 50 سے 52 سینٹی گریڈ تک محسوس کیا جا رہا تھا۔جبکہ محکمہ موسمیات کا پیش گوئی میں کہنا تھا کہ حبس، بڑھتی نمی اور ہیٹ ویو کی صورتحال مزید 3 دن تک چلے گی، بعدازاں کمی کا امکان ہے، آئندہ 2 سے 3 روز تک درجہ حرارت 40 ڈگری تک جانے کا امکان ہے۔دوسری جناب کراچی کے مضافات میں گرج چمک کے ساتھ بارش بھی ہوئی، اطلاعات کے مطابق مضافاتی علاقے گڈاپ، بحریہ ٹاؤن اورتڈی، ایچ اے سٹی میں بارش سے موسم خوشگوارہوگیا۔


