بی ایس او پجار کی جانب سے جاری بیان کی وضاحت

آواران (پ ر) بی ایس او پجار آواران میں حکمرانوں کی طرف سے اور آواران کے غریب زمباد گاڑی مالکان کی ریاستی استحصال کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے، اور اس عمل کو بلوچستان بالخصوص آواران کے زمباد مالکان کو نان شبینہ کا محتاج بنانے کی سازش قرار دیتا ہے کہ غریب گاڑی مالکان کی طرف سے اپنے روزگار کے تحفظ کیلے پرامن احتجاج کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ بی ایس او پجار آواران زون کے صدر علی شیر بلوچ، پریس سیکرٹری مطلب بلوچ، سینئر ممبر علی احمد علی، مرکزی کمیٹی کے رکن شفیق مہر، نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما حمل اکبر نے آج آواران میں زمباد مالکان کی جانب سے احتجاجی کیمپ میں زمباد مالکان سے ملاقات کرکے ان کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ پچھلے ایک سال سے آواران کے اس محنت کش طبقے کو بلاوجہ وجہ بارڈر نوبت لسٹ سے خارج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان یہاں سے باہر کے لوگوں کیلئے خزانہ اور یہاں کے مقامی لوگوں کیلئے عذاب بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی عدم توجہ کے سبب آواران کے زمباد مالکان مہینے میں ایک بار بھی نوبت کیلئے در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ بی ایس او پجار آواران کے رہنماﺅں نے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ آواران کے غریب زمباد گاڑی مالکان کے حقیقی اور سنجدہ مسئلے جلد از جلد حل کیا جائے بصورت دیگر غریب گاڑی مالکان کے ساتھ مل کر برپور احتجاج کا راستہ اپنائیں گے۔
علاوہ ازیں بی ایس او پجار کے مرکزی ترجمان نے آواران زمباد گاڑی مالکان کے احتجاجی دھرنے میں اظہار یکجہتی کے حوالے سے لگائی گئی ہیڈنگ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے ایسا کوئی بھی پریس ریلز جاری نہیں کیا، مرکزی ترجمان نے انتخاب آن لائن اور متعلقہ ادارے کے ذمہ داروں سے رابطہ کر کے مطالبہ کیا کہ پریس ریلز تنظیم کی طرف سے جاری نہیں کی گئی، لہٰذا اس پریس ریلیز کو تنظیم سے منسوب نہ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں