پرامن ریلی پر تشدد کرکے لاپتا افراد کے لواحقین کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی، سمی دین بلوچ
کوئٹہ (یو این اے) وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے جنرل سیکرٹری سمی دین بلوچ نے سماجی رابطے ویب سائٹ (ایکس) پر اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ جبری گمشدگی کے شکار ظہیربلوچ کے اہلخانہ کی جانب سے کوئٹہ میں ریلی نکالی جارہی تھی۔ کوئٹہ پولیس کی جانب سے ریلی میں موجود خواتین اور بچوں سمیت تمام شرکا پر تشدد کرکے شیلنگ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا گیا اور متعدد گرفتاریاں ہوئی اور شدید فائرنگ کی گئی، یہ لواحقین گزشتہ دس دنوں سے کوئٹہ کی سڑکوں پر احتجاج پہ بیٹھے تھے لیکن حکومت نے مطالبات پر کان نہیں دھرا، مذاکرات اور بات چیت کو نظر انداز کرکے ہمیشہ کی طرح ریاستی طاقت کا استعمال کرکے پرامن احتجاجوں پر اسی طرح کریک ڈاﺅن کرکے آوازوں کو دبانے کی کوشش کی ہے۔ تمام طبقہ فکر کے لوگوں سے درخواست ہے کہ اس کوئٹہ پولیس کی جانب سے اس غیرقانونی عمل کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ گیلامن وزیر کی شہادت کا سن کر انتہائی دکھ اور تکلیف ہوئی اور شاید انکا خلا کھبی پر نہ ہوسکے، وہ اپنی شاعری کے زریعے شعور پھیلاتا رہا اور انکے جانے کے بعد انکی شاعری اپنی قوم کو یوں ہی ظلم اور جبر کے خلاف لڑنے کی تلقین کرتی رہے گی۔جس ریاست میں لاقانونیت کا راج رائج ہو وہاں کسی بھی شخص کی جان و مال محفوظ نہیں ہوسکتی اور گیلامن وزیر ان لوگوں میں شمار تھے جو قانون کی بالا دستی اور شہریوں اور اپنے قوم کے لوگوں کی تحفظ کیلئے آواز اٹھا رہے تھے جو اسی جدوجہد کے ساتھ اس دنیا سے چلے گئے لیکن وہ لاقانونیت موجود ہے اور اسکے قاتل ابھی تک پکڑے نہیں گئے۔ہم اس رنج و الم میں پشتونوں کے سمیت گیلامن وزیر کے اہلخانہ کے دکھ اور تکلیف میں برابر کے شریک ہیں۔


