سیاسی جماعت پر پابندی پارلیمانی نظام کیلئے انتہائی خطرناک اقدام ہوگا، وکلا کا رد عمل
کوئٹہ(یو این اے ) وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر پابندی لگانے کے فیصلے سے متعلق ماہرین قانون محمد سلیم لاشاری ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو تحلیل کرنے کا حتمی فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے کرنا ہے ماہر قانون محمد سلیم لاشاری ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ کسی سیاسی رہنما پر آرٹیکل 6 لگانا ہو یا پھر کسی پارٹی کو آرٹیکل 17 کے تحت پابندی لگانے کا معاملہ ہو، دونوں صورتوں میں کابینہ اس کا فیصلہ کرے گی اور یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لے جانے کی ہرگز ضرورت نہیں کیوں کہ آئین کا آرٹیکل 17 بہت واضح ہے کہ کوئی بھی شخص پاکستان کے اندر سیاسی جماعت بناسکتا ہے اور کسی سیاسی جماعت کا حصہ بن سکتا ہے لیکن اس میں چند شرائط ہیں انہوں نے کہا کہ اس آرٹیکل کا سب آرٹیکل 2 یہ کہتا ہے کہ اگر وفاقی حکومت کسی سیاسی جماعت پر پابندی عائد کرتی ہے تو اس کی دو بنیادیں ہوسکتی ہیں ایک وہ فارن فنڈڈ پارٹی ہے یا وہ پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کرے منیر کاکڑ ایڈوکیٹ نے کہا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد حکومتی ڈکلیریشن کو 15 دن کے اندر سپریم کورٹ بھیجاجائے گا اور اس معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہوگا انہوں نے کہا کہ سیکشن 212 الیکشن کمیشن کو یہ اختیار دیتا ہے کہ اگر کوئی سیاسی پارٹی الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرتی ہے جس میں بیرون ملک سے فنڈنگ شامل ہے تو الیکشن کمیشن وفاقی حکومت کو ایک ریفرنس بھجوائے گا اورحکومت اس کی توثیق کرکے 7 دن کے اندر سپریم کورٹ کو بھیجی گی اور اس پر بھی سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہوگا ان کا کہنا تھا کہ اس کے نتائج بہت زیادہ خطرناک ہیں جو سیکشن 213 میں موجود ہے اگر سپریم کورٹ وفاقی حکومت کے بھیجے گئے ریفرنس کی توثیق کردیتی ہے تو اس سیاسی جماعت کے اندر سینیٹ، قومی صوبائی اور بلدیاتی نمائندے کی رکنیت معطل ہوجائے گی ماہر قانون کاشف اقبال ایڈوکیٹ نے بتایا کہ یہ ایک مذاق ہے، کوئی انہیں مس لیڈ کر رہا ہے اس کا دفاع کیا ہوگابدنیتی پر یہ ریفرنس فائل کیا گیا ہے یہ اس لیے کر رہے ہیں کہ اس جماعت کا لیڈر ہر کیس میں بری ہو رہا ہے، ان کو کچھ اور نہیں ملا تو اس طرف چل پڑے یہ فارم 45 کی جو نمود ہے اس سے یہ بھاگنا چاہتے ہیں فارم 45 ان کے گلے میں گھنٹے کی طرح بندھی ہوا ہے، ان کا کہنا تھا کہ جب سے فارم 45 الیکشن کمیشن نے ویب سائٹ پر لگائی اور پھر ہٹا دی وہ ایک کلیدی فارم ہے امیدواروں کے لیے فارم 45 سے چابت ہوتا ہے کہ نواز شریف الیکشن ہارے ہوئے ہیں تو اب یہ ان کو تباہ کرنے کی کوشش کریں گے انہوں نے فارم 47 سے الیکشن جیت لیے ہیں تو یہ سب کچھ اس ریفرنس سے باہر آجائے گا یہ ڈاکومنٹس فائل کریں گے تو جس کے خلاف دائر کریں گے وہ بھی اپنی دستاویزات فراہم کریں گے اور سب عیاں ہوجائے گا بہت ہی کوئی بیوقوف کوئی ہے کہ جنہوں نے یہ ریفرنس دائر کرنے کا کہا ہے ان کی سیاست اسکروٹنی کے اندر آجائے گی ماہر قانون راحب خان بلیدی نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے بتایا کہ ابھی ہم اس معاملے پر پیپلز پارٹی سے بات کریں گے تو پیپلز پارٹی ان کو مشورہ دے گی یہ لوگ جال میں پھنس رہے ہیں اس پریس کانفرنس کی ایک دو دن میں(ن) لیگ کے وزرا تردید کردیںگے ن لیگ ان کے پاس وکیل تو اچھے ہیں لیکن سمجھ نہیں آرہا ہے کہ ان کو ہوا کیا ہے ماہر قانون ولید بلوچ ایڈوکیٹ نے حکومت کے پی ٹی آئی پر پابندی کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی صوابدید ہے کہ آرٹیکل 17 کے تحت وہ کسی بھی جماعت کے متعلق ریفرنس دائر کرسکتے ہیں سپریم کورٹ اور پھر عدالت آرٹیکل 17 کے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے فیصلہ کرے گی کہ کیا یہ سیاسی جماعت پاکستان کی سالمیت کے خلاف کام کر رہی ہے تو اس جماعت کو تحلیل کردیا جاتا ہے انہوں نے بتایا کہ یہ وہ سیاسی جماعت ہے جس کے بارے میں عدالت عظمی نے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں کے بعد یہ پارلیمان کی سب سے بڑی جماعت بن جائے گی 2، 4 دن میں تو ان تمام باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت نے جو بھی نکات رکھے ہیں چاہے اس کا تعلق سائفر سے ہو یا کسی اور سے ہو تو ان کو بھی عدالت نے مسترد کیا ہے کافی حد تک، میں سمجھتا ہوں کہ جب اتنی بڑی سیاسی جماعت تحلیل کرنے کی کوشش کریں گے تو اس حکومت کا یہ شاید سب سے زیادہ مبہم فیصلہ ہے ماہر قانون قاسم گاجزئی نے کہا کہ آرٹیکل 17 بہت واضح ہے اگر آپ ملک کی سالمیت کے خلاف جارہے ہیں تو عدالت عظمی جماعت کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کرے گی ریفرنس دائر کرنے میں تاخیر کا معاملہ مسائل کھڑا کرے گامخصوص نشستوں کے بعد حکومت ایسے سخت اقدامات لے رہی ہے، یہ وہ حکومت ہے کہ انتخابات کے بعد یہ واضح ہوگیا تھا کہ لوگ ان کو نہیں چاہتے ہیں مخصوص نشستوں کے کیس کے بعد یہ حکومت کا جواب ہے کہ پوری سیاسی جماعت پر ہی پابندی لگا دی جائے اس بات کا دوسرا زاویہ یہ ہے کہ اس ہی جماعت کو انتخابات میں بھرپور ووٹ پرا ہے تو اگر آپ سیاسی جماعت پر پابندی لگانے جارہی ہیں تو یہ تو عوام کی رائے کو بھی کالعدم قرار دے دیں یہ پارلیمانی نظام کے لیے انتہائی خطرناک اقدام ہے۔


