بلوچستان طلباء الائنس کا حکومت سے ایم بی بی ایس فیس ٹیسٹ کی فیس میں کمی کا مطالبہ

کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان طلباء الائنس کے چیف آرگنائزر اسد شاہ نے بلوچستان حکومت کو 3 دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایم بی بی ایس کی سیٹ حاصل کرنے کے لئے بلوچستان اور پاکستان کے ہزاروں طلباء 8 ہزار فیس دینے سے قاصر ہیں ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو احتجاجی دھرنا دیں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف طلباء تنظیموں کے زیر اہتمام نکالی گئی ریلی اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے دیئے جانے والے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ریلی اور مظاہرہ میں بڑی تعداد میں طلباء و طالبات شریک تھیں ریلی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی پریس کلب کے سامنے پہنچ کر مظاہرے کی شکل اختیار کر گئی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے طلباء الائنس کے رہنمائوں نے کہا کہ ایم ڈی کیٹ طلباء کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں مرحلہ وار احتجاج کا فیصلہ کیا گیا تھا کیونکہ ہم نے پہلے پریس کانفرنس کے ذریعے حکام بالا تک اپنا موقف پہنچایا حکومتی اور اپوزیشن نمائندوں سے ملاقاتیں کیں جس کے بعد دوسرے مرحلے میں طلباء کو متحرک کیا اور آج احتجاج کا آغاز کیا ہے ہم نے 6 مطالبات حکام کو پیش کئے ہیں جس میں ایم بی بی ایس کی سیٹ کے حصول کے لئے رجسٹریشن فیس 8 ہزار روپے کی بجائے کم کی جائے اور بلوچستان کے سلیبس سے ہی ٹیسٹ کے سوالات دیئے جائیں۔ میڈیکل سیٹس میں اضافہ کیا جائے۔ شہید بینظیر میڈیکل کالج نصیر آباد کو فوری بحال کیا جائے۔ انٹری ٹیسٹ کو بلوچستان کے تعلیمی اداروں کی زیر قیادت رکھا جائے اور بلوچستان میں ہونے والے ٹیسٹ کے دوران موبائل فون اور دیگر جدید آلات کی اجازت نہ دی جائے۔ ٹیسٹ کے بعد بک لیٹ اپلوڈ کیا جائے ہم اپنے مطالبات کے حصول کیلئے حکومت کو 3 دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے 14 اگست وقت دیتے ہیں ہمارے مطالبات تسلیم کئے جائیں بصورت دیگر 3 دن بعد احتجاجی مظاہرے کو دھرنے میں تبدیل کردیں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں