عدل کا کیسا نظام ہے جس میں پشتون و بلوچ اقوام کے بنیادی حقوق پامال ہیں، اصغر اچکزئی
پشین(آن لائن) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ وکلا تحریک نے آزاد عدلیہ کیلئے جو تحریک چلائی بد بختانہ عدلیہ بحالی کے بعد وہ اہداف حاصل نہ کئے جاسکے مقننہ انتظامیہ کی مانند عدلیہ بھی اشرافیہ ہی کے زیر اثر رہی جس سے عدل وانصاف کی فراہمی میں خلل پڑا حتی کہ 8۔اگست سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ میں درجنوں وکلا کی شہادت کی سفارشات بھی سردخانے کی نذر رہی چرچل نے دوران جنگ پوچھا کہ ملک میں عدل کا نظام کیسا ہے تو بتلایا گیا کہ عدل وانصاف کی فراہمی میں کوئی خلل نہیں تو چرچل نے اپنے سپاہ سے کہا کہ یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے ملک ایک ادارے اسٹیبلشمنٹ کی اشاروں پر چلایا جارہاہے پشتون بلوچ اقوام کی بنیادی انسانی حقوق پامال ہے جس سے پشتونوں اور بلوچوں میں احساس بیگانگی قدرتی امر ہوگی وکلا وہ طبقہ ہے جو مجبور لاچار غریب پرور افراد کی دادرسی اور انہیں انصاف دلانے کیلئے کوشاں رہتے ہیں 8۔اگست کے سانحہ کے بعد وکلا برادری کیساتھ اپنائیت کا جو احساس پیدا ہوا ہے میری کوشش ہوگی کہ شہید عسکر خان ایڈوکیٹ کے ساتھیوں کے درمیان ہمہ وقت موجود رہوں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشین بار ایسوسی ایشن کی جانب سے اپنے اعزاز میں دئیے گئے استقبالیہ تقریب سے خطاب کے دوران تقریب سے پشین بار ایسوسی ایشن کے صدر نصرالدین کاکڑ ایڈوکیٹ اور اکبر کاکڑ ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کیا اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عبیداللہ عابد مرکزی سیکرٹری طلبا امور رشید خان ناصر صوبائی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری عبدالباری کاکڑ ضلعی صدر اصغر علی ترین صوبائی سیکرٹری باچاخان مرکز عصمت داوی اراکین مرکزی کمیٹی ڈاکٹر اقبال ترین سید عبدالرب آغا صادق کاکڑ چیئرمین رحمت داوی و دیگر سمیت وکلا کی بڑی تعداد موجود تھی۔


